نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سکیورٹی فورسزکاجنوبی وزیرستان کےعلاقےسروکئی میں آپریشن،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آپریشن کےدوران دہشتگردوں کےٹھکانےسےاسلحہ اوربارودبرآمد،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- سب مشین گن،آرپی جی 7،دستی بم اورمختلف قسم کااسلحہ برآمد،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دیسی ساختہ سرنگیں بنانےکاسامان بھی برآمد،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

اسلامک فنانس مساوات، غربت کا خاتمے اور شفافیت کے فروغ کی ضامن ہے: شوکت ترین

تجارت

کراچی: (دنیا نیوز) مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اسلامک فنانس مساوات، غربت کا خاتمے اور شفافیت کے فروغ کی ضامن ہے جبکہ ربا معاشی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹ ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں اسلامی بینکاری کانفرنس سے اپنے ورچوئل خطاب میں مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ چھوٹے کاروبار ، زرعی اور ہاوسنگ سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے علاوہ اسلامی بینکاری نظام کو حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی شرعی بینکاری پراڈکٹس متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

تقریب سے آن لائین خطاب میں ملییشیاء کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ اسلامی بینکاری کے لیے ضرورت ہے کہ سماجی نظام میں بھی خلوص و دیانت داری کو فروغ دیا جائے۔

اس موقع پر اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل کا کہنا تھا کہ ایسا نظام لا رہے ہیں، جس میں اکاؤنٹ یا آئی بی این کی ضرورت نہیں، نئے نظام میں موبائل فون نمبر سے ٹرانزیکشنز ہوجائیں گی، ڈیجیٹل بینکنگ کا مقصد صرف تنخواہ دینا نہیں، بینکوں کو ڈیجیٹل قرضوں کیلئے بھی کام کرنا ہے، بینک صارفین کی ضروریات پر توجہ نہیں دیتے، اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک شریعت کے مطابق نئی بینکنگ پراڈکٹس کا لیگل فریم ورک بھی بنا رہا ہے۔

دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں اسلامی بینکاری کا حصہ 18 فیصد ہے جس کو مجموعی بینکاری کے 30 فیصد تک لانا ہے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں