نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش
  • بریکنگ :- ہمارےپاس افسران کی کمی ہے،ایک افسر 4 کی جگہ کام کررہا،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:آپ سیاسی بیان بازی مت کریں،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- کراچی:سیاسی بیان نہیں دےرہا،حقیقت بتارہاہوں،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- ہم جس افسرکوتعینات کرتےہیں وفاق واپس بلالیتاہے،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- ہماری حکومت سےپہلےفٹ پاتھ بھی لوگوں کودےدیئے،مرادعلی شاہ
Coronavirus Updates

پاک نیوزی لینڈ سیریز منسوخ: پی سی بی کا معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کا فیصلہ

کرکٹ

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ سیریز سکیورٹی وجوہات کی بناء پر منسوخی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئر مین رمیز راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ آج شائقین اور ہمارے کھلاڑیوں کے لیے بہت افسوسناک دن ہے، سیکورٹی کے خدشات کی بنا پر یکطرفہ فیصلہ بہت مایوس کن ہے۔ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے؟

اپنے ٹویٹر پر قومی ٹیم کے چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ سیریز کی منسوخی کے بعد نیوزی لینڈ ہمیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں سنے گا۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے ون ڈے میچ شروع ہونے سے چند گھنٹوں پہلے پاکستان کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر وزیراعظم جیسنڈا آرڈن اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے دورۂ پاکستان ختم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ اس دوران میں نے ٹیم کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی اور سہولیات پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جانتی ہوں کہ دورے کی منسوخی کا فیصلہ ہر اس شخص کے لیے حیران کن ہے جو میچ دیکھنے کے لیے پُرجوش تھا لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز منسوخ ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے رابطہ کیا، نیوزی لینڈ کے سکیورٹی انچارج نے کہا سکیورٹی خدشات ہیں، نیوزی لینڈ سکیورٹی انچارج سے پوچھا کیا سکیورٹی خدشات ہیں تو بتایا نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس اطلاع ہے ٹیم باہر نکلے گی تو حملہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے اداروں نے راضی کرنے کی کوشش کی لیکن نیوزی لینڈ نے اپنا فیصلہ کیا، ہمارے کسی ادارے کو تھریٹ موصول نہیں ہوا۔ ہم نے نیوزی لینڈ ٹیم کو بہترین سکیورٹی دی، یہ دورہو سازش کے تحت ختم کیا گیا ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خطے میں امن کی کاوشوں کے خلاف دستانے پہنے ہوئے ہاتھوں نے سازش کی، وہ ہمیں قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے دونوں بارڈر محفوظ ہیں۔ بھارت کی سوئی پاکستان پر پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ہر حال میں امن قائم رہے گا۔

صحافی کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ استعفی دیں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کوئی عقل کی بات کرو۔ جس کی بھی سازش ہے نام لینا مناسب نہیں۔ یہ وزارت داخلہ کی ناکامی نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم انہی باتوں پر غور کر رہی ہے، انگلینڈ کی ٹیم کو خوش آمدید کہیں گے۔ انگلینڈ ٹیم 24 گھنٹے میں فیصلہ کرے گی۔ برطانوی ٹیم کے لیے انتظامات مکمل ہیں، فیصلہ انگلینڈ نے کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے آگاہ کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی کے حوالے سے الرٹ موصول ہوا ہے اس لیے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومتِ پاکستان نے مہمان ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کر رکھے تھے، ہم نے نیوزی کرکٹ بورڈ کو بھی یہی یقین دہانی کرائی تھی اور وزیر اعظم نے ذاتی طور پر نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ ہماری سیکیورٹی انٹیلی جنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکیورٹی کا خطرہ نہیں ہے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ نے تصدیق کی کہ کیویز نے نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے جاری سیکیورٹی الرٹ کے بعد اپنا دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی حکومت کو موصول سیکیورٹی خدشات میں اضافے اور نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی ایڈوائزرز کے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دورے کو جاری نہیں رکھیں گے۔ اب ٹیم کی واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ جو تجاویز ہمیں موصول ہوئیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دورے کو جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پی سی بی کے لیے ایک دھچکا ہوگا جو شاندار میزبان رہے ہیں تاہم کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ واحد آپشن ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں