نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آپ سندھ حکومت ہیں،ایڈووکیٹ جنرل صاحب ! جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- یہ سب ذمہ داری آپ کی تھی،سپریم کورٹ کوکرناپڑرہاہے،جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- پوراکراچی گند سےبھراہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- کیایہ کراچی شہر ہے،یہ توگاربیج دکھائی دیتاہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- حکمران طبقےکوشہر کی کوئی پرواہ نہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- گٹرابل رہےہیں،تھوڑی سی بارش سےشہرڈوب جاتاہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- شہراس طرح چلایاجاتاہے؟ایک انچ کابھی کام نہیں ہواکراچی میں،عدالت
  • بریکنگ :- یہ ہےسندھ حکومت، کہتےہیں پیسےنہیں ہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- کھربوں روپےکی باہر سےمددآتی ہے،کیاکرتےہیں،کچھ پتہ نہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- غیرقانونی قبضے،سٹرکیں بدحال،کچھ نہیں کراچی میں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- سندھ حکومت مکمل بینک کرپٹ کی جانب کھڑی ہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- اس سب کی ذمہ داری سندھ حکومت پرعائدہوتی ہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کھربوں روپےکےبجٹ سےآپ کےپاس 10 ارب نہیں،جسٹس اعجازالاحسن
Coronavirus Updates

نور مقدم کو کیوں قتل کیا؟ ملزم ظاہر جعفر نے گھناؤنے جرم کی وجہ بتا دی

کرائم

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نور مقدم قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے خاتون کو قتل کرنے کی وجوہات سے پولیس کو آگاہ کر دیا ہے۔

دنیا نیوز ذرائع کے مطابق قاتل ظاہر جعفر نے وجہ قتل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نور مقدم میرے ساتھ بے وفائی کر رہی تھی جس کا مجھے دکھ تھا، علم ہونے پر پر اسے روکا، مگر وہ نہیں مانی۔

ذرائع کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے وفائی میرے لئے ناقابل برداشت تھی، دھوکا دینے پر نور مقدم کو قتل کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد اعتراف جرم میں وجہ قتل بتائی۔

بتایا گیا ہے کہ ملزم کی والدہ اور سیکیورٹی گارڈز نے 3 گھنٹے تک واقعہ کو چھپایا۔ ملزم کی والدہ یا سیکیورٹی گارڈز بروقت اطلاع دیتے تو نور مقدم کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس میں اہم پیشرفت

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے نور پر تشدد کے ویڈیو شواہد بھی حاصل کر لئے ہیں۔ نور مقدم ساڑھے چار بجے بالکنی سے بھاگ کر گارڈ کے پاس آئی اور خود کو سکیورٹی گارڈ کے کیبن میں بند کر لیا۔

ذرائع کے مطابق ملزم ظاہر جعفر پیچھے آیا اور کیبن سے نور کو باہر نکالا۔ گلی میں موجود گارڈ یہ سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کسی بھی گارڈ نے ظاہر جعفر کو تشدد کرنے سے نہ روکا۔ گلی میں اور بھی لوگ موجود تھے جنہوں نے نور کو گھسٹتے ہوئے دیکھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ملزم اس کو دوبارہ اوپر لے کر گیا۔ تشدد سے لے کر قتل تک کا عمل تین گھنٹے کے دوران کیا گیا۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں