جھنگ میں طالبہ اغوا اور مبینہ زیادتی کیس کے تمام ملزمان گرفتار
جھنگ:(دنیا نیوز) پنجاب کے علاقے جھنگ میں چار روز قبل لاپتہ ہونے والی گیارہویں جماعت کی 18 سالہ طالبہ عیشال فاطمہ کے مبینہ اغوا اور زیادتی سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال لائی جانے والی عیشال فاطمہ دورانِ علاج دم توڑ گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے مرکزی ملزم خلیل کو بھی لاہور سے گرفتار کرلیا جب کہ تین ملزمان پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔
جھنگ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے جبکہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
عیشال فاطمہ چند روز قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور طالبہ کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم افراد عیشال فاطمہ کو بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
حکام کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد اور واقعے کے حالات کے پیشِ نظر کیس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا پہلو بھی شامل ہے تاہم حتمی رائے میڈیکل، فرانزک اور دیگر تفتیشی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔
دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد طالبہ کی حالت تشویش ناک ہونے پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف شواہد اکٹھے کیے، دورانِ تفتیش سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں عیشال فاطمہ کو انتہائی تشویش ناک حالت میں نجی ہسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔
خیال رہے فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر خلیل حسیب، امیش اور حسن نامی چاروں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا جن سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔