نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ واقعہ دلخراش اورقابل مذمت ہے،وفاقی وزیرداخلہ
  • بریکنگ :- وفاقی ادارےتحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہےہیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- نیشنل کرائسزسیل واقعہ کےمحرکات کاجائزہ لےرہاہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- واقعہ میں ملوث افرادکوقانون کی گرفت میں لائیں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مذہب کےنام پرانتہاپسندی روکنےکیلئےمل کرکام کرناہوگا،شیخ رشید
Coronavirus Updates

منشی پریم چند، افسانوی ادب کا اہم ستون

تفریح

لاہور(روزنامہ دنیا)منشی پریم چند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ناصرف ایک شاندار افسانہ نگار تھے بلکہ ناول نویس بھی کمال کے تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 300 افسانے اور 12 ناول تحریر کیے۔ ان کی تحریروں کا سب سے بڑا وصف سماجی حقیقت نگاری تھا۔

پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے سری واستو تھا۔ وہ 31جولائی 1880ء کو بنارس میں پیدا ہوئے۔ سات برس کی عمر میں انہوں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔جہاں انہوں نے اردو اور فارسی پڑھی۔ کہانیاں لکھنے کا شوق پریم چند کو بچپن سے ہی تھا۔ انہیں کتب بینی سے بڑی رغبت تھی اور وہ ہر وقت مطالعے میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے ایک کتب فروش کے ہاں نوکری کرلی اور کتابیں فروخت کرنا شروع کردیں۔ یہاں انہیں بہت سی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزی انہوں نے ایک مشزی سکول میں سیکھی۔ پھر انہوں نے مغربی ادب کا مطالعہ کیا۔

1897ء میں ان کے والد کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ میٹرک کرنے کے بعد پریم چند کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ 1919ء تک پریم چند کے چار ناول شائع ہو چکے تھے۔کسی ناول کی ضخامت 100 صفحات سے زیادہ نہیں تھی۔ان کا پہلا بڑا ناول   سیواعدن‘‘ ہندی میں شائع ہوا۔ اصل میں یہ ناول پہلے اردو میں تحریر کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا   بازارِ حسن‘‘۔ 1924ء میں لاہور کے ایک پبلشر نے اس ناول کو شائع کیا۔ جس کا نام تھا   دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘۔ اس کہانی کے مطابق دنیا کا سب سے انمول رتن خون کا وہ آخری قطرہ ہے جو آزادی حاصل کرنے کیلئے بہایا جاتا ہے۔ پریم چند کے ابتدائی افسانوں میں قوم پرستی کی بڑی واضح جھلکیاں ملتی ہیں اور یہ افسانے بھارت کی تحریک آزادی سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔ ان کا دوسرا ناولٹ   ہم خما وہم نواب‘‘1907ء میں شائع ہوا۔ اس ناول میں ہندو معاشرے میں بیوہ کی شادی کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ ناول کا ہیرو تمام رسموں اور روایات کو پس پشت ڈال کر ایک نوجوان بیوہ سے شادی کر لیتا ہے۔ دیکھا جائے تو اپنے زمانے کے حوالے سے یہ ایک انقلابی ناول تھا اور پریم چند نے اس موضوع پر ناول لکھ کر بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا تھا۔

1907ء میں ہی پریم چند کا ایک اور ناولٹ   کشنا‘‘ منظرعام پر آیا۔ اس میں عورتوں کی زیورات سے محبت پر طنز کی گئی تھی، ان کی طنز میں ایسی کاٹ تھی کہ اس زمانے کے نقادوں اور ادب کے قارئین نے ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ پھر پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ   سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں اس افسانوی مجموعے پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ اس میں چار افسانے ایسے تھے جن میں ہندوستان کے لوگوں کو سیاسی آزادی کے حصول کی ترغیب دی گئی تھی۔ پریم چند کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں   سوزِ وطن‘‘ کی 500 کاپیوں کو جلا دیا گیا۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس وقت تک پریم چند نواب رائے کے نام سے لکھتے تھے۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنا نام پریم چند رکھ لیا۔

منشی پریم چند کے مشہور اردو ناولوں میں   بازارِ حسن‘‘،   گئودان‘‘،   بیوہ‘‘،   نرملا‘‘ اور   میدانِ عمل‘‘ شامل ہیں۔ ان کے پسندیدہ موضوعات جاگیرداری، سماجی اور معاشی ناہمواریاں ، بدعنوانی اورعورتو ں کا استحصال ہے ۔   نرملا‘‘ ایک دردناک ناول ہے۔   بیوہ‘‘ میں منشی پریم چند نے قارئین کو یہ بتایا ہے کہ ہندو معاشرے میں ایک بیوہ پر کیا گزرتی ہے۔ اس کی زندگی دردناک اور سسکتے ہوئے لمحوں کی داستان بن جاتی ہے۔
پریم چند کی قوتِ مشاہدہ بھی بڑی زبردست ہے۔ ناولوں کی طرح ان کے افسانوں میں بھی سماجی حقیقت نگاری کا واضح عکس ملتا ہے۔ انہوں نے سماج کے کچلے ہوئے طبقات کے بارے میں جس بے باکی اور صداقت سے اپنے قلم کو استعمال کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ جب ہم سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ادب سماج کا آئینہ ہے تو پھر ادب میں سماج کا عکس نظر آنا چاہیے۔ ان کے لازوال افسانوں میں   کفن‘‘،   بڑے گھر کی بیٹی‘‘،   عیدگاہ‘‘،   پوس کی رات‘‘،   نمک کا داروغہ‘‘ اور   لاٹری‘‘ شامل ہیں۔ ان کا شمار اردو اور ہندی زبان کے عظیم ترین ناول نگاروں اور افسانہ نویسوں میں ہوتا ہے۔

پریم چند نے غربت اور جہالت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کا عظیم افسانہ   کفن‘‘ پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ غربت اور جہالت کے اندھیرے انسان کو زندگی کے مفہوم سے ناآشنا کر دیتے ہیں اور وہ دنیا کی بدترین مخلوق بن جاتا ہے۔ ان کے کئی افسانوں پر بھارت میں آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ انہوں نے سماجی حقیقت نگاری اور ترقی پسندی کا جو پودا لگایا تھا وہ بعد میں تناور درخت بن گیا۔ سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور غلام عباس کے افسانوں میں پریم چند کی فکر کے سائے ملتے ہیں۔ انہوں نے لکھاریوں کو یہ بھی سمجھایا کہ ہوائوں میں چراغ نہ جلا ئیں، چراغ ہمیشہ اندھیرو ں میں جلایا کرتے ہیں۔ پریم چند ہندی اور اردو ادب کا تابندہ ستارہ تھے۔ انہوں نے سماج کے کچلے ہوئے طبقات پربے باکی اور صداقت سے اپنے قلم کو استعمال کیا،انہوں نے جرأت اور صداقت کی شمعیں فروزاں کیں۔ 8 اکتوبر 1936ء کو یہ بے بدل افسانہ نگار اور ناول نویس 56 برس کی عمر میں چل بسا۔

تحریر:عبدالحفیظ ظفر
(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے ،دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں)
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں