نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کاٹویٹ
  • بریکنگ :- کل اورپرسوں ویکسی نیشن سینٹرزکھلےہوں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- چھٹی کےدن ویکسین لگوانےکابہترین موقع ہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- 40 یااس سےزائدعمروالےافرادکسی بھی سینٹرسےویکسین لگواسکتےہیں،اسدعمر
Coronavirus Updates

انڈیا نے سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کردی، ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اپنی کارستانیوں سے باز نہ آیا، ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری پر کھلم کھلا فائرنگ کی گئی ہے۔

تفصیل کے مطابق پاکستان نے گزشتہ روز پیر کی صبح بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی طرف سے دانستہ طور پر ورکنگ بائونڈری عبور کر کے پاکستان کے چاروہ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلا اشعال خلاف ورزی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

چاروہ سیکٹر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے جموں سیکٹر کے بالکل سامنے واقع ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو جاری دیئے گئے مراسلے میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے جموں سیکٹر میں واقع بھارتی بی ایس ایف کی چوکی کے اہلکاروں نے بلا اشتعال پاکستان کے چاروہ سیکٹر میں چھوٹے ہتھیاروں کے تیس رائونڈ اور 60 ملی میٹر کے چار مارٹر بم فائر کئے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 3 ٹریکٹروں پر سوار 15 بی ایس ایف اہلکار ورکنگ بانڈری عبور کر کے پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے ۔جب پاکستان رینجرز کے جوانوں نے بی ایس ایف اہلکاروں کو تیز سائرنوں اور سیٹیوں کے ذریعے واپس بھیجنے کی کوشش کی تو انہوں نے بلا اشتعال چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کے ذریعے پاکستانی چوکی پر فائرنگ شروع کر دی۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں سیکٹر میں واقع بی ایس ایف پوسٹ نے پاکستانی چوکی پر سنائپر گن کے ذریعے بھی فائرنگ کی تاکہ کسی پاکستانی جوان کو شہید یا زخمی کیا جاسکے۔

وزارت خارجہ نے کہاکہ انہیں مزید حیرانی اس بات ہوئی کہ یہ خلاف ورزی اس وقت ہوئی جب بھارتی ذرائع ابلاغ پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ جب بھارتی ذرائع ابلاغ میں چلنی والی خبروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا رہا تھا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو سبوتاژ کرنے کے ارادے کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری کو عبور اور مارٹر گولے فائر کرکے جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ بھارت کی طرف سے ڈی جی ایم اوز کے 2021ء کے معاہدے کی پہلی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے ڈی جی ایم اوز کے 2021کے معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں بی ایس ایف اہلکاروں کے غیر مناسب رویہ ظاہر ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مودی حکومت بھارت میں کورونا کی عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن جیسی کوئی مہم جوئی کر سکتی ہے اور جنگ بندی کی اس خلاف ورزی سے بھارت کے ان جارحانہ عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت کل پورا دن ضلع سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر پر پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جھوٹی خبر چلاتا رہا جس سے کورونا بحران سے نمٹنے میں بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں