نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ،اغوابرائےتاوان کے 3 ملزم 18 سال بعدبری
  • بریکنگ :- عدالت نےعبدالوہاب،ظہیراحمد،وارث علی کوشک کافائدہ دےکربری کیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ملزمان کی جیل میں شناخت پریڈنہیں کی گئی،وکیل
  • بریکنگ :- اسلام آباد:مدعی نےعدالت میں ملزمان کوشناخت کیا،وکیل
  • بریکنگ :- عدالت میں ملزمان کی شناخت کی قانونی حیثیت نہیں،وکیل
  • بریکنگ :- انسداددہشتگردی عدالت نے 5 ملزمان کوعمرقیدکی سزاسنائی تھی
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ نےاپیل میں 2 ملزمان رضوان،اشفاق کوبری کردیاتھا
Coronavirus Updates

مسئلہ کشمیرحل کرنے پر آمادگی تک بھارت سے بات نہیں ہو سکتی، ڈاکٹر معید یوسف

پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مسئلہ کشمیر حل کرنے پر آمادگی تک بھارت سے بات نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے یہ بات بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیئے گئے ایک اہم انٹرویو میں کہی۔ مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر آمادگی تک بھارت سے بات نہیں ہو سکتی۔

ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ بھارت کو واضح کردیا کہ ہر پاکستانی آخری وقت تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اور جارحانہ اقدام واپس نہیں کرتا، بات ناممکن ہے۔

مشیر قومی سلامتی کا دوران انٹرویو کہنا تھا کہ بھارت کے خطے میں امن کو خراب کرنے کے لئے تخریب کاری کے ثبوت موجود ہیں۔ لاہور دھماکے کے تانے بانے بھارت سے جڑتے ہیں، ہم نے اس میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے رکھ دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت آر ایس ایس اور فاشسٹ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اسے پاکستان میں دہشت گردی روکنی ہوگی۔ پاکستان ہمیشہ امن کے لئے کوشاں رہا ہے مگر بھارت کی ہندوتوا سوچ آڑے آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے قبول کیا کہ بھارت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو سیاسی عزائم کیلئے استعمال کیا۔

ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کے مسئلے کے لئے سیاسی حل کے لئے کوشش کرتا رہے گا۔ بھارت نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا گڑھ بنا رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مودی ہندوتوا حکومت سےایک مہذب رویے کی امید کی جا سکتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ بھارت میں مودی کو ہٹلر سے مطابقت دی جا رہی ہے، معید یوسف کے سوال پر بھارتی صحافی کرن تھاپر کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

ڈاکٹر معید یوسف نے بھارت میں کورونا کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ انڈین صحافی کرن تھاپر کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں