نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پنجاب کابینہ،سالانہ ترقیاتی بجٹ میں 26 ارب روپےاضافےکی منظوری
  • بریکنگ :- پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کاحجم 560 سے 586 ارب روپےتک کردیاگیا
  • بریکنگ :- محکمہ خزانہ پنجاب نےپی اینڈڈی بورڈکو 26 ارب روپےکامزیدبجٹ دےدیا
  • بریکنگ :- لاہور:بجٹ 800 سےزائدنظراندازچھوٹی اسکیموں کودیاجائےگا
  • بریکنگ :- لاہور:کم مختص شدہ فنڈ والی اسکیموں کوبھی بجٹ مل سکےگا
Coronavirus Updates

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان: شرح سود میں 0.25 فیصد کا اضافہ

تجارت

کراچی: (دنیا نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد بنیادی شرح سود 7.25 فیصد ہو گئی ہے۔ معاشی پالیسی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے، اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں کے ہمراہ ملکی طلب کی بھرپور بحالی درآمدات میں تیزی اور جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کی طرف لے جا رہی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق جون سے سال بسال مہنگائی کم ہوئی ہے تاہم بلند درآمدہ مہنگائی کے ساتھ بڑھتا ہوئی طلبی دباؤ مالی سال میں آگے چل کر مہنگائی کے اعداد و شمار میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق جون سے سال بسال مہنگائی کم ہوئی ہے تاہم بلند درآمدہ مہنگائی کے ساتھ بڑھتا ہوئی طلبی دباؤ مالی سال میں آگے چل کر مہنگائ یکے اعداد و شمار میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ اس بات کے آثار بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان میں کووڈ کی تازہ ترین لہر قابو میں ہے، ویکسی نیشن میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے اور حکومت کو وبا کو مجموعی طور پر بخوبی قابو میں کر رکھا ہے تو معاشی بحالی وباء سے متعلق غیر یقینی کیفیت کا اتنا زیادہ شکار معلوم نہیں ہوتی۔ نتیجے کے طور پر بحالی کے اس زیادہ پختہ مرحلے پر نمو کی طوالت دینے، مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کو آہستہ کرنے کے لیے مناسب پالیسیوں کو یقینی بنانے پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں