نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کالاہورگیریژن کادورہ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آرمی چیف کوکورہیڈکوارٹرزمیں فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں،تربیتی امور پربریفنگ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کی لاہورکی مختلف جامعات کےوائس چانسلرز،اساتذہ،طلبا سےبھی ملاقات
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےمستقبل کی قیادت،مفیدشہریوں کی تیاری میں تعلیمی اداروں کےکردارکوسراہا
  • بریکنگ :- تعلیم،صحت، ماحولیات کےشعبوں میں انسانی وسائل کی ترقی کی ضرورت ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- بیرونی مفادات کےتحت غلط معلومات کاپھیلاؤغلط فہمیاں پیداکررہاہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- غلط معلومات کاپھیلاؤمعاشرےکی ہم آہنگی کیلئےخطرہ ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- دشمن قوتوں کےعزائم کوناکام بنانےکیلئےمتحدرہناہوگا،آرمی چیف
  • بریکنگ :- پاکستانی نوجوان انتہائی باصلاحیت،کاروباری سوچ کےحامل ہیں،آرمی چیف
  • بریکنگ :- نوجوانوں کوسازگارماحول ملےتوملک کوترقی کی طرف لےجائیں گے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- طویل سیشن کےدوران اساتذہ،طلبانےکئی سوالات کیے،بات چیت کومثبت قراردیا
  • بریکنگ :- اس موقع پرکورکمانڈرلیفٹیننٹ جنرل محمدعبدالعزیزبھی موجودتھے،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

پاکستان مسلم لیگ (ن) اسحاق ڈار کی سینیٹ کی نشست بچانے کے لیے پھر متحرک

پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان مسلم لیگ نون اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست بچانے کے لیے متحرک، منتخب نمائندے کا 60 روز میں حلف لازمی قرار دینے سے متعلق آرڈیننس کے خلاف درخواست مسترد ہونے پر انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی۔

مسلم لیگ ن کی دائر درخواست میں وفاق، وزارت قانون، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری سینیٹ کو فریق بنایاگیا ہے۔ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کو خدشہ تھا کہ وہ ایسے قانون پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے نہیں کروا سکے گی، جلد بازی میں جاری کئے گئے آرڈیننس سے بدنیتی واضح ہے، آرڈیننس میں کہا گیا 60 روز میں حلف نہ لینے پر نشست خالی ہو جائے گی، عام انتخابات 2023 میں ہونے ہیں اس وقت اس آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی۔ درخواست پر فیصلے تک الیکشن کمیشن کو کسی بھی رکن کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کی عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دی تھی۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ شریک ملزم کے وکیل قاضی مصباح کے ڈینگی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سماعت بغیر کسی کارروائی کے تین نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں