نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کالاہورگیریژن کادورہ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آرمی چیف کوکورہیڈکوارٹرزلاہورمیں فارمیشن کی آپریشنل اورٹریننگ پربریفنگ
  • بریکنگ :- آرمی چیف کی لاہورکےتعلیمی اداروں کےطلبااور فیکلٹی سے بھی ملاقات
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےمستقبل کیلئےقیادت تیارکرنے میں اداروں کےکردارکوسراہا
  • بریکنگ :- تعلیم،صحت،ماحول ،انفراسٹرکچرکےشعبوں میں انسانی وسائل کی ترقی کی ضرورت ہے،آرمی چیف
  • بریکنگ :- آرمی چیف نےطلبااورفیکلٹی ممبران کےسوالات کےجواب دیئے
  • بریکنگ :- غلط معلومات کاپھیلاؤریاست کےوقارکیلئےخطرہ ہے، آرمی چیف
  • بریکنگ :- آرمی چیف کاغلط معلومات کےپھیلاؤکےخاتمےکی مہم کی ضرورت پرزور
  • بریکنگ :- قوم کودشمن قوتوں کی پھیلائی گئی غلط معلومات کا توڑنکالناہوگا،آرمی چیف
  • بریکنگ :- اس موقع پرکورکمانڈرلاہورلیفٹیننٹ جنرل محمدعبدالعزیزبھی موجودتھے
Coronavirus Updates

پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں اجلاس ہوا، نیو بالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ نیو بالاکوٹ سٹی کوترقی دینے کے 19.5 ارب روپے کے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی نے مکمل کر لی ہے، مجوزہ پروجیکٹ کے تحت کل 6753 میں سے 63 فیصد رہائشی پلاٹ مقامی متاثرین کو الاٹمنٹ کے لیے مختص ہیں، باقی 2480 رہائشی اور 575 کمرشل پلاٹس کے علاوہ 800 اپارٹمنٹس نیلام کیے جائیں گے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بنیادی طور پر نیو بالاکوٹ سٹی کی ترقی وفاقی کے بجائے صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، یہ منصوبہ مکمل ہونے پر نہ صرف موجودہ سیاحتی مقامات پر دباؤ کو کم کرے گا، حکومت کے ساتھ متوقع آمدنی بانٹنے کے نتیجے میں 7 ارب روپے سے زیادہ رقم بھی کمائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہی ہے، نامور نجی سرمایہ کاروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر راغب کیا جا رہا ہے، نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔ منصوبے کو ایرا سے لے کر اسے سیاحتی مقام کے طور پر مکمل کرے، خطے میں غذائی تحفظ کے لیے زیر کاشت اراضی کو منصوبے میں شامل نہ کیا جائے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں