نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ 2 ہفتےمیں وزیراعظم کراچی کادورہ کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان گرین لائن کاافتتاح کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی کادیرینہ مطالبہ مردم شماری رہاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےفیصلہ کیاہر 5 سال بعدمردم شماری کرائی جائےگی،اسدعمر
  • بریکنگ :- دسمبر2022 میں مردم شماری مکمل کردی جائےگی،اسدعمر
  • بریکنگ :- وفاق کی معاونت سےکراچی کی ترقی کاسفرشروع ہوچکاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےمقامی حکومتوں سےاختیارات چھین لیےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت کےنئےنظام کومستردکرتےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےجعلی مقامی حکومت کااعلان کیا،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ کےعوام کےساتھ ظلم برداشت نہیں کیاجائےگا،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی ترقی کرےگا تو پاکستان ترقی کرےگا،اسدعمر
Coronavirus Updates

تحریک عدم اعتماد: بی اے پی اراکین نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی

پاکستان

کوئٹہ: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ، بی اے پی اور اپوزیشن اراکین نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی 35 اراکین نے اسپیکر کی رہائش گا ہ پر رات گزاری۔ ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ 4 اراکین تاحال غائب ہیں جن سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، خدشہ ہے مزید ساتھیوں پر دباؤ کے حربے استعمال کئے جائیں گے۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کر دی گئی، رائے شماری 25 اکتوبر کو ہوگی۔

بلوچستان اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں ہوا، بی اے پی کے ناراض رکن عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی، تحریک پیش کرنے کی قرارداد کی 33 ارکان نے تائید کر دی۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر نے جام حکومت پر اپنے پانچ ساتھیوں کو لاپتہ کرنے کا الزام لگا دیا۔ بازیابی تک احتجاج کی دھمکی بھی دے دی۔

جام کمال نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ اسمبلی فلور پر وزیراعلیٰ نے عدم اعتماد تحریک کا مقابلہ کرنے کا عزم دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کامیاب ہوئی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ ترجمان بلوچستان حکومت نے دنیا نیوز سے گفتگو میں ناراض اور اپوزیشن ممبران کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ ارکان غائب نہیں ہوئے انہیں منالیا۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں