نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- موٹروےایم 4 باہوانٹرچینج سےعبدالحکیم اورگوجرہ انٹرچینج تک بند
  • بریکنگ :- موٹروےایم 5 دھندکےباعث شیرشاہ سےرحیم یارخان تک بند
  • بریکنگ :- احمدپورشرقیہ،اوچ شریف اورگردونواح میں دھند،حدنگاہ انتہائی کم
  • بریکنگ :- پیرمحل، وہاڑی اور گردونواح میں بھی شدید دھند
  • بریکنگ :- موٹروےایم 11لاہورسے سمبڑیال تک دھند کےباعث بند
  • بریکنگ :- موٹروےایم ٹوپربلکسرسےکوٹ مومن تک ایچ ٹی وی گاڑیوں کاداخلہ بند
  • بریکنگ :- موٹروےایم ٹوپرٹھوکرنیازبیگ سےکوٹ مومن تک ایچ ٹی وی گاڑیوں کا داخلہ بند
  • بریکنگ :- موٹروےایم تھری رجانہ سے درخانہ تک دھند کی وجہ سے بند
  • بریکنگ :- جھنگ اورگردونواح میں شدیددھند،حد نگاہ صفر
Coronavirus Updates

رائل پارک کی رونقیں قصہ پارینہ، فلم ڈسٹری بیوٹرز کے 350 میں سے صرف 4 دفاتر رہ گئے

تفریح

لاہور: (دنیا نیوز) ماضی قریب تک فلمی ستاروں کی کہکشاں سے چمکنے والے لاہور کے رائل پارک کی رونقیں قصہ پارینہ بن گئیں، فلم ڈسٹری بیوٹرز کے 350 دفاتر میں سے صرف 4 رہ گئے ہیں، اب یہاں تمام دن پرنٹنگ مشینوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔

وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ وقت سے وقت کی کیا شکایت کریں، وقت ہی نہ رہا، وقت کی بات ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کسی زمانے میں فلم ڈسٹری بیوشن کا سب سے بڑا مرکز رہنے والے رائل پارک کی بھی دکھائی دیتی ہے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق کسی دور میں یہاں رائل سرکس باقاعدگی سے لگا کرتی تھی جس کی مناسبت سے یہ مقام رائل پارک کہلانے لگا، 1935 میں یہاں فلم ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر قائم ہونے لگے تھے جہاں اُس دور میں اداکار پران، شمشاد بیگم، بھرت بھوشن اور دیگر فلمی ستارے باقاعدگی سے آیا کرتے تھے، تقسیم ہند کے بعد یہ روایت پاکستانی اداکاروں نے بھی جاری رکھی۔

پھر وقت بدلا تو ملک کی فلم انڈسٹری دم توڑنے لگی جس کے ساتھ ہی رائل پارک کی رونقیں بھی اُجڑنے لگیں، اب یہ عالم کہ یہاں فلموں کی ڈسٹری بیوشن کے قائم 350 دفاتر میں سے صرف چار ہی باقی رہ گئے ہیں۔ حالات یہی رہے تو کوئی دن جاتا ہے کہ یہ دفاتر بھی ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں