نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کی لوٹ مار،پاکستان دنیابھرمیں رسواہوگیا،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکومت کیخلاف چارج شیٹ ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- ایک سال میں پاکستان کرپشن انڈیکس میں 16درجےاوپرچلاگیا،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- احتساب کاشورمخالفین پرجھوٹےکیسزبنانےکاذریعہ تھا،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- کرپشن کاخاتمہ ن لیگ کےدورمیں ہوا،لیگی رہنماحمزہ شہباز
  • بریکنگ :- پاکستان کو 127ویں درجےسے 117نمبرپرلےآئےتھے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- معیشت کھنڈربن چکی،پاکستان مہنگائی میں دنیامیں تیسرےنمبرپرہے،حمزہ شہباز
Coronavirus Updates

وزیر خزانہ بننے کی راہ ہموار، شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری

پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔

شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے کے لیے انہیں سب سے پہلے سینیٹر منتخب کروایا جائے گا جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں سینیٹر بنوانے کے لیے ٹکٹ جاری کر دیا ہے، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی نے دستخط کے بعد ٹکٹ جاری کردیا ، وہ خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹ الیکشن لڑیں گے۔ جس کے لیے مشیر خزانہ کل اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران تین بار وزیر خزانہ تبدیل کیے گئے ہیں، حکومت ملنے کے بعد پہلی ذمہ داری اسد عمر کے سپرد کی گئی تھی تاہم بعد میں یہ ذمہ داری ان سے لیکر عبدالحفیظ شیخ کو دی گئی تاہم سینیٹ الیکشن کے دوران یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست ہوئی جس کے بعد ان سے یہ عہدہ واپس لے گیا اور وقتی طور پر یہ عہدہ حماد اظہر کو دیا گیا تھا۔

حماد اظہر سے عہدہ واپس لینے کے بعد شوکت ترین کو وفاقی وزیر خزانہ بنایا گیا، شوکت ترین بغیر منتخب ہوئے صرف چھ ماہ وفاقی وزیر رہے، انکی یہ مدت 16 اکتوبر کو ہو گئی تھی، تاہم بعد میں انہیں مشیر خزانہ کے عہدے پر براجمان کیا گیا۔

واضح رہے کہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شوکت ترین مشیر خزانہ کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ کا منصب بھی سنبھال چکے ہیں۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں