نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بلوچستان کےعلاقےکیچ میں سیکیورٹی فورسزکی چیک پوسٹ پرحملہ
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی فائرنگ سے 10جوان شہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں ایک دہشتگردہلاک،متعددزخمی ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 3دہشتگردوں کوگرفتار کرلیا گیا، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کلیئرنس آپریشن ابھی تک جاری ہے، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ملزمان کوانجام تک پہنچانے کیلئے آپریشن جاری رہےگا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- حملہ 25 اور 26جنوری کی درمیانی شب کیاگیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ارض پاک سےدہشتگردوں کےمکمل خاتمہ تک سیکیورٹی فورسزپرعزم ہیں
Coronavirus Updates

'قومی سلامتی پالیسی ، غیر ملکی شہریوں کیلئے مستقل رہائشی سکیم کی اجازت کا فیصلہ کیا'

پاکستان

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کے مطابق حکومت نے غیر ملکی شہریوں کیلئے مستقل رہائش کی سکیم کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے لکھا کہ قومی سلامتی پالیسی کی روشنی میں پاکستان نے جیو اکنامکس کو اپنے قومی سلامتی نظریئے کا کلیدی جزو قرار دیا ہے۔

فواد چودھری نے مزید لکھا کہ نئی قومی سلامتی پالیسی کے مطابق حکومت نے غیر ملکی شہریوں کیلئے مستقل رہائش کی سکیم کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی افراد سرمایہ کاری کے عوض مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کرسکیں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کا اجراء کر دیا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مادر وطن کا دفاع ہر سطح پر ناگزیر، جنگ مسلط کی گئی تو بھر پور جواب دیا جائے گا، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب پر توجہ مرکوز، جعلی اطلاعات اور اثر انداز ہونے والے بیرونی آپریشنز کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا، اطلاعات، سائبراور ڈیٹا سکیورٹی ترجیح اور نگرانی کیلئے استعداد بڑھائی جائے گی ۔

قومی سلامتی پالیسی میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہےکہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، روایتی صلاحیت میں اضافے کیساتھ ملکی دفاع کے لیے کم سے کم جوہری صلاحیت کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی سلامتی پالیسی کو زبر دست اقدام قرار دیا ہے۔

سلامتی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ دشمن کی جانب سے طاقت کے استعمال کے ممکنہ خطرات موجود ہیں، کوئی بھی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، خود انحصاری پالیسی کے تحت دفاع کے لیے جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کی جائے گی اور مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار میں بھی اضافہ کیاجائے گا۔

اس حوالے سے دفاعی پیدوار ،مواصلاتی نیٹ ورک اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت کوبھی بڑھایاجائےگا اور ملکی دفاع کے لیے کم سے کم جوہری صلاحیت کو برقرار رکھا جائے گا۔

قومی سلامتی پالیسی میں واضح کیا گیا ہےکہ ایوی ایشن اورسکیورٹی پروٹوکول میں بہتری کیساتھ بحری نگرانی کو بھی مزید موثر بنایاجائے گا، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو وسعت دی جائے گی اورلائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھی توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب اور قبائلی اضلاع کی ترقی کو بھی ترجیح حاصل ہوگی ۔

پالیسی میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں وسعت لائی جائے گی جبکہ سائبر و ڈیٹا کی سکیورٹی اورسرکاری امور کی رازداری کو بھی کویقینی بنایا جائے گا۔ داخلی سلامتی کے لیے نیم فوجی دستوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید خطوط پر تربیت کی جائے گی۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں