کاکروچ جنتا پارٹی کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا
نئ دہلی: (دنیا نیوز) بھارت میں نوجوانوں کی ایک نئی احتجاجی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) وزیر اعظم مودی کی 12 سالہ حکمرانی کیخلاف ایک توانا آواز بن کر سامنے آ گئی۔
تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کی سیاست کو طویل عرصے سے ہندو مسلم مباحث تک محدود رکھا گیا، جبکہ بے روزگاری، تعلیم اور معاشی مواقع جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گزشتہ 12 برس میں قومی سیاسی مباحث کا محور ہندو مسلم بیانیہ رہا، جس کے باعث نوجوانوں کو درپیش حقیقی چیلنجز نظر انداز ہوتے رہے۔
تحریک کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ حکومت مزید ہندو مسلم کارڈ استعمال کرنے کے بجائے نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کی ترجیحات تبدیل کرنے اور عوامی توجہ اصل مسائل کی جانب مبذول کرانے کا وقت آ چکا ہے۔
سی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد وہ تعلیمی اصلاحات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع ایجنڈا پیش کرے گی تاکہ نوجوان نسل کے مطالبات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
عالمی مبصرین کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے غصے نے حکمران جماعت کے سیاسی بیانیے کو چیلنج کیا ہے، نوجوان نسل اب مذہبی اور فرقہ وارانہ مباحث کے بجائے روزگار، مہنگائی، تعلیم اور معاشی ترقی جیسے مسائل پر توجہ چاہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض حلقوں نے اس احتجاجی تحریک کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش کی، تاہم نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اپنے مطالبات کو معاشی اور سماجی مسائل تک محدود رکھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جین زی نسل کی یہ تحریک بھارتی سیاست میں ایک نئے رجحان کی نشاندہی کر رہی ہے، جس نے ملک کے سیاسی نظام اور حکومتی ترجیحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔