نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےسعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کی ملاقات
  • بریکنگ :- ریاض:ملاقات مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹوسمٹ کی سائیڈلائن پرہوئی
  • بریکنگ :- ملاقات میں دوطرفہ امورپرتبادلہ خیال کیاگیا،وزیراعظم آفس
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےسعودیہ کی ترقی کیلئےشاہ سلمان بن عبدالعزیزکی قیادت کوسراہا
  • بریکنگ :- سعودی وژن 2030 کےلیےولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کی بھی تعریف
  • بریکنگ :- مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹوسربراہی اجلاس کےانعقادپرمحمدبن سلمان کومبارکباد
  • بریکنگ :- پاکستان گرین انیشی ایٹوکی تکمیل میں تعاون اورحمایت کرےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاسعودی عرب کیساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات کےعزم کااعادہ
  • بریکنگ :- سعودی عرب کیساتھ پاکستان کےاسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پربھی بات چیت
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےہراہم موڑپرپاکستان کی مددپرسعودی عرب کاشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کاتمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزیدمضبوط بنانےپراتفاق
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کاافغانستان میں تازہ ترین پیشرفت کابھی جائزہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاافغانستان کی مددکیلئےبین الاقوامی برادری کےکردارکی اہمیت پرزور
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاافغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پرتشویش کااظہار
  • بریکنگ :- عالمی برادری افغانستان میں انسانی ومعاشی بحران روکنےکیلئےاقدامات کرے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

ایسا خوفناک مندر جہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں آیا

عجیب خبریں

استنبول: (روزنامہ دنیا) ترکی کے ایک علاقے میں ایک ایسا قدیم ترین مندر بھی قائم ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں جانے والا کوئی بھی شخص زندہ نہیں رہا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ترکی کے اس قدیم مندر میں اس قدر اندھیرا ہے کہ کچھ بھی دیکھنا ناممکن ہے ، لوگ اس مندر کو دوزخ کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ اس پراسرار مندر کے قریب جانے والے انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی مرجاتے ہیں۔

فروری2018 میں محققین پر یہ انکشاف ہوا کہ پراسرار مندر میں دھواں کیوں ہے ؟ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مندر کے نیچے غار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی ایک بڑی مقدار موجود ہے ۔ ہیکل کے احاطے میں اس کی مقدار91 فیصد ہے جو کہ بے حد مہلک ہے ، یہ گیس آکسیجن سے ڈیڑھ گنا زیادہ بھاری ہے ، اس زہریلی گیس کی وجہ سے ہی یہاں آنے والے لوگ دم توڑ جاتے تھے۔


 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں