سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع نے ایران کے ساتھ معاہدہ تباہ کن قرار دے دیا
تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اویگڈور لیبرمین نے ایران کے ساتھ معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر اسرائیل کو بنانا ریپبلک میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران سے متعلق امریکی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں پر اسرائیلی حلقوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے، انتہا پسند قوم پرست جماعت کے سربراہ لیبرمین نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ایران کی موجودہ قیادت برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں کوئی بھی معاہدہ ایک تباہی ہے، کیونکہ ہر معاہدہ آیت اللہ قیادت کو اقتدار میں رہنے دیتا ہے، لیبر مین نے ممکنہ معاہدے کی بعض خبروں میں سامنے آنے والی شقوں پر بھی سخت تنقید کی، جن میں ایران کے تقریباً 110 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنا اور ایران کو تیل و گیس کی بغیر کسی پابندی کے فروخت کی اجازت دینا شامل ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیتن یاہو کے ساتھ رویے اور مذاکرات کے بعض حصوں میں اسرائیل کو شامل نہ کیے جانے پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا ٹرمپ نے نیتن یاہو کی رضامندی کے ساتھ اسرائیل کی تذلیل کی ہے۔