نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- موٹروے ایم 2،لاہورسےپنڈی بھٹیاں تک بند
  • بریکنگ :- لاہور:موٹروےایم 3،فیض پورسےسمندری تک بند
  • بریکنگ :- لاہور:موٹروےایم 11 ،محمودبوٹی سےسمبڑیال تک بند
  • بریکنگ :- لاہور:موٹروےشدید دھند کی وجہ سے بند کی گئی
  • بریکنگ :- احمدپورشرقیہ:اوچ شریف اورگردونواح میں شدیددھند ،حد نگاہ انتہائی کم
  • بریکنگ :- احمدپورشرقیہ:موٹروےایم 5جھانگڑہ انٹرچینج دھندکےباعث بند
  • بریکنگ :- قصوراورگردونواح میں شدید دھند،حدنگاہ انتہائی کم رہ گئی
Coronavirus Updates

ایل اے سی: چین میزائل اور بھاری ہتھیارلے آیا، بھارت پریشان

ایل اے سی: چین میزائل اور بھاری ہتھیارلے آیا، بھارت پریشان

مشرقی لداخ کے قریب میزائل، ٹینک اور راکٹ نصب ،جھیل میں گشت کرنیوالی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی ، چین کانئے گاؤں میں جنگجوؤں کو آبادکرنا باعث تشویش :بھارتی پروفیسر،بپن راوت کابیان ‘اشتعال انگیز،چینی ترجمان

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت ، چین تنازع، بھارت نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چین بھارتی سرحد کے قریب میزائل اور راکٹ رجمنٹ تیار کر رہا ہے ، مقامی میڈیا کے مطابق انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب لداخ سیکٹر میں چین اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں مصروف ہے ، جس پر انڈیا نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔اس سے قبل بھی انڈین میڈیا میں حکومت کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی گئی تھی کہ چین مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کی فنگر چار سے فنگر سات کے درمیان بڑے پیمانے پر اضافی میزائل، ٹینک اور راکٹ وغیرہ نصب کر رہا ہے ۔اگرچہ چین نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے علاقے میں کر رہا ہے ۔ لیکن سیٹلائٹ کی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس علاقے میں چین کی تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے ۔ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی نوعیت کی نئی تعمیرات کی ہیں۔ ان تصاویر سے اس علاقے میں نئے ہتھیاروں اور بھاری مشینوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ چینی فوج نے جھیل میں نگرانی کے لیے گشت کرنے والی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے ۔انڈین میڈیا کے مطابق نئی تعمیرات میں رہائشی عمارتیں، سڑکیں، نئی شاہراہیں وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے میزائل رجمنٹ سمیت بھاری ہتھیار بھی اپنی جانب تعینات کر رکھے ہیں، جس وجہ سے انڈیا کافی پریشان ہے ۔ماہرین کے مطابق دراصل، ناقابل رسائی علاقے کی وجہ سے مین لینڈ چائنا کے لوگوں کے لیے یہاں رہنا بہت مشکل ہے ، اس لیے چین مقامی لوگوں کو یہاں رکھنا چاہتا ہے ۔بنارس ہندو یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر اور انڈیا اور چین کے رشتے پر کئی کتابوں کے مصنف کیشو مشرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین تعمیرات کرتا رہا ہے اور یہ معاملہ کافی پرانا ہے لیکن سنہ 2017 کے بعد چینی صدر کے اختیارات میں وسیع اضافے کے بعد انڈیا اور چین کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔چونکہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی واضح حد بندی نہیں ہے ، اس لیے چین اپنے حساب سے نئے گاؤں بسا دیتا ہے جن میں عام شہریوں کے بجائے جنگجوؤں کو آباد کرتا ہے اور یہ انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔دوسری جانب چند روز قبل انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے چین کو انڈیا کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا جسے چینی وزارت دفاع کے ترجمان وو کیان نے ‘اشتعال انگیز’ قرار دیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement