آبنائے ہرمز کی بندش؛ یورپی یونین کی ایران پر نئی پابندیاں عائد

آبنائے ہرمز کی بندش؛ یورپی یونین کی ایران پر نئی پابندیاں عائد

کئی اہم شخصیات اور ادارے بلیک لسٹ ،اثاثے منجمدکرنا ، ویزاپابندیاں شامل سمندری نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے :کایا کالاس

برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر کرنے کے الزام میں ایران کی متعدد شخصیات اور اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلانکر دیا ، جن میں اثاثے منجمد کرنے اور ویزا پابندیاں شامل ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے رکن ممالک کی متفقہ منظوری کے بعد ایکس پر اپنے بیان میں کیا۔یورپی یونین کے مطابق پابندیوں کا ہدف وہ ایرانی افراد اور ادارے ہیں جن پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔پابندیوں کی فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ شامل ہیں جبکہ ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے نمائندے حمید حسینی کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر ویزا پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔کایا کالاس نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت امن مذاکرات اور نازک جنگ بندیوں کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے تاہم ایرانی ڈرونز اب بھی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ٹریفک کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی وزرائے خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ سمندری نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے ۔ ایران کی جانب سے تاحال یورپی یونین کی نئی پابندیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں