نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
  • بریکنگ :- اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زیادتی کرنےوالا ہی قصوروارہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتاثرہ فردکبھی بھی اس واقعےکاذمہ دارنہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتعلق میرےبیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرلیاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انٹرویومیں پاکستانی معاشرےسےمتعلق بات ہورہی تھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خواتین نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکارہورہی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پردےکاحکم صرف خواتین کےلیےنہیں مردوں کےلیےبھی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام میں پردےکامقصد معاشرےمیں بگاڑکوروکنا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام خواتین کوعزت واحترام دیتاہے،وزیراعظم عمران خان
Kashmir Election 2021
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

امریکی پوسٹ آفس میں بہتری کا منصوبہ

تحریر: اداریہ: نیو یارک ٹائمز

گزشتہ سال صدارتی الیکشن کی مہم اور کووڈ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے پوسٹ آفس کو جس طرح سیاست کی بھینٹ چڑھایا‘ اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ناقدین نے پوسٹ ماسٹر جنرل لوئی ڈی جائے پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ڈاک کی ڈلیوری کے نظام میں اس طرح کی تبدیلیاں کی تھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر امریکی صدر منتخب ہو جائیں؛ تاہم انہوں نے اس الزام کی پُرزور تردید کی تھی۔ اس سال پوسٹل سروس نے اپنے روایتی کردار کی طرف مراجعت اختیار کر لی ہے اور اب واشنگٹن میں ریپبلکن اور ڈیمو کریٹس کسی ایک بات پر متفق ہو سکتے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہماری دونوں جماعتوں کے ارکانِ کانگرس پوسٹل سروس ریفارم ایکٹ 2021ء پر متحد ہو رہے ہیں۔ اس وقت ایوان اور سینیٹ‘ دونوں میں ایسی قانون سازی متعارف کرا دی گئی ہے جس سے محکمہ ڈاک کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ممکن ہو جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ای میل، ای کامرس اور الیکٹرانک ادائیگیوں نے پوسٹ آفس کو ایک بحران میں مبتلا کر دیا ہے جس نے پوری قوم کو 245 سال سے ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ فسٹ کلاس ڈاک کا حجم اب کم ہو گیا ہے۔ 2007ء سے لے کر 2020ء تک اس کے حجم میں 45 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ ملکی ڈاک کی آمدنی میں 36 فیصد کمی ہو چکی ہے جو 60.6 بلین ڈالرز سے کم ہو کر 38.7 بلین ڈالر ہو گئی ہے؛ چنانچہ اب پوسٹل سروس کے لیے اپنے آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ ہمارے ادارتی بورڈ سمیت کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ بڑھتی ہوئی لاگت اور گرتی ہوئی ڈیمانڈکے پیش نظر سروس میں کمی کی جائے۔ انقلابی سوچ کے حامل ناقدین کا مطالبہ ہے کہ ڈاک کی ڈلیوری کو مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے۔ پرائیوٹائزیشن کوئی اتنی اچھی تجویز نہیں ہے۔ پوسٹل سروس ایک ایسی امریکی ایجنسی ہے جو امریکا کے ہر کونے میں‘ خواہ دیہی علاقہ ہو یا شہری‘ امیر ہو یا غریب‘ ہر جگہ موجود ہے۔ اس کے پاس ایک قابل رشک انفراسٹرکچر موجود ہے جس میں ملک کا سب سے بڑا ٹرکوں کا فلیٹ بھی شامل ہے۔ یہ امریکا کی سب سے قابل بھروسہ اور مقبول ترین ایجنسی ہے۔ عوام کی ایک بڑی اکثریت زندگی بچانے والی ادویات اور سوشل سکیورٹی چیکس کے لیے بھی اس پر اعتماد کرتی ہے۔ پوسٹل سروس کی نجکاری کا مقصد ایک مفید اور قیمتی ادارے کی خدما ت کو ضائع کرنے کے مترادف ہو گا جو ہم سب کی ضرورت ہے۔ اس کی ڈائون سائزنگ کرتے وقت بھی بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

مسٹر ڈی جائے نے اس کے لیے مارچ میں جس دس سالہ پلان کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد کیش کے ضیاع کو روکنا، ریٹس میں اضافہ اور اس کی سروس کو سٹریم لائن کرنا ہے اور کچھ صورتوں میں اس کے کام کے گھنٹوں میں کٹوتی اور ملازمین میں کمی کرنا بھی مقصود ہے۔ جمعہ کے دن پوسٹل سروس نے اعلان کیا کہ فسٹ کلاس سٹمپ کی قیمت اس موسم گرما سے 55 کے بجائے 58 سینٹ ہو گی۔ کچھ کٹوتیاں اور ریٹس میں اضافہ تو ناگزیر ہے مگر پوسٹ آفس کو جس بات کی فوری ضرورت ہے وہ اس کے امیج کی بحالی ہے۔ 80 سے زائد قومی تنظیموں کے اتحاد نے‘ جس میں امیریکن پوسٹل ورکرز یونین بھی شامل ہے‘ موجودہ انفراسٹرکچر کو نئے انداز میں استعمال کرنے کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کی ہیں جن میں دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کی رسائی یا ان عمر رسیدہ اور معذور افراد کی مانیٹرنگ کرنا شامل ہیں جن کے ساتھ صرف ڈاک لے جانے والوں کے ذریعے ہی رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس اتحادکی تجاویز میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عوام کو کم رقم کے چیک کیش کرانے کی سہولت جیسی مالیاتی خدمات میں توسیع کی جائے۔ یہ خدمات پسماندہ علاقوں کے لیے گرانقدر اہمیت کی حامل ہوں گی۔

پوسٹل سروس آفس کے انسپکٹر جنرل لوئی ڈی جائے نے 2015ء میں اپنی رپورٹ میں ایک تخمینہ لگایا تھا کہ اس طرح کی معقول سروس ان 68 ملین امریکی شہریوں کو فراہم کی جا سکتی ہے جن کے پاس اپنا کوئی بینک اکائونٹ نہیں ہے یا وہ چیکس کو کیش کرانے کے لیے ادائیگی کے مہنگے ترین پروگرامز کی مدد لیتے ہیں۔ پوسٹل سروس ریفارمز ایکٹ اس طرح کی توسیع کی اجازت تو نہیں دے گا مگر وہ ایک ایسی شق شامل کرکے تجربہ کرنے کے لیے دروازے کھلے چھوڑ دے گا تاکہ ریاستی اور مقامی حکومتوں کو آپس میں تعاون کرنے کے لیے مطلوبہ اجازت مل جائے اور وہ اپنے بل بوتے پر نان پوسٹل پروڈکٹس کی آفر بھی کر سکیں۔

اس قانون کے بعد پوسٹل سروس مالی طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکے گی کیونکہ اس طرح کانگرس کی وہ مجوزہ شرط بھی ختم ہو جائے گی کہ ایجنسی اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد 75 سال کی عمر تک ان کی صحت پر آنے والے بھاری اخراجات کو ختم کرے۔ پوسٹل سروس کو اس بات پر مجبور کرنا کسی طور بھی معقول شرط نہیں لگتی کہ ایجنسی اپنے ریٹائر ہونے والے ملازمین کے ان فنڈز کی ادائیگی بھی پہلے کرے جو ابھی بہت دور ہیں۔ یہ ایک ایسی شرط ہے کہ کوئی بھی دوسرا سرکاری یا نجی ادارہ اسے قبول نہیں کرے گا۔

پوسٹ ماسٹر جنرل نے جتنی بھی دیگر تبدیلیوں کی بات کی ہے وہ ایجنسی کے بہت سے ان اخراجات کو روکنے میں مدد کریں گی جن کی وجہ سے پوسٹل سروس 2006ء سے مسلسل نقصان میں جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس طرح اگلے دس سال میں ایجنسی کو 45 بلین ڈالرز کی بچت ہو گی اور ایجنسی کے پاس اتنے مالی وسائل ہوں گے کہ اس کو جدید رنگ میں ڈھالنے کے لیے مطلوبہ رقم سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک اور بھی پوسٹل ریفارم بل موجود ہے جس کی مالیت8  ارب ڈالر ہے‘ اس رقم کی مدد سے ایجنسی کے ٹرکوں کی بڑی تعداد کو بجلی پر منتقل کیا جا سکے گا۔ جب یہ ٹرک معدنی تیل سے بجلی پر منتقل ہو جائیں گے تو اس سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی طرف ایک بڑی کامیابی حاصل ہو گی۔

اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ پوسٹل سروس کو جلد از جلد ڈیجیٹل ایج میں داخل کیا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہوگا۔ پوسٹ آفس کی یہ خوبی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کی مدد سے آنے والی تبدیلیوں کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ پونی ایکسپریس سے شروع ہوکر ایئر میل کی آمد تک خود کو ہمیشہ نئے قالب میں ڈھال لیتا ہے۔ اگر کانگرس اسے مزید سرمایہ کاری کرنے اور جدت لانے کی اجازت دیدے تویہ ایک مرتبہ پھر خود کو نئی تبدیلیوں کے مطابق ڈھال لے گا۔

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد حسین ر امے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement