نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
  • بریکنگ :- پردےکاحکم صرف خواتین کےلیےنہیں مردوں کےلیےبھی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام میں پردےکامقصد معاشرےمیں بگاڑکوروکنا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام خواتین کوعزت واحترام دیتاہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زیادتی کرنےوالا ہی قصوروارہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتاثرہ فردکبھی بھی اس واقعےکاذمہ دارنہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتعلق میرےبیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرلیاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انٹرویومیں پاکستانی معاشرےسےمتعلق بات ہورہی تھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکارہورہی ہے،وزیراعظم
Kashmir Election 2021
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

کووڈ سے برازیلی بچوں کی اموات

تحریر: پیٹر ہوٹیز

برازیل میں وبائی امراض سے تباہی کی جدید تاریخ میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر اوقات بچے موت اور معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔ جب 2007-08ء میں وہاں ڈینگی بخار پھیلا تو مرنے والوں میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔ جب 2015ء میں زکا وائرس پھیلنے سے حاملہ خواتین اس کی لپیٹ میں آئیں تو 1600سے زائد نوزائیدہ برازیلی بچوں میں مائیکرو سیفلے کا پیدائشی نقص پایا گیا۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ تھی۔ نظام تنفس کا وائرس سب سے زیادہ برازیلی بچوں میں پھیلا تو پیٹ کے کیڑوں اور بڑی آنت میں پائے جانے والے طفیلی کیڑوں نے بچوں میں نشوو نما روک دی جس سے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اب کووڈ سے برازیل کے بچے جس شرح سے متاثر ہو رہے ہیں‘ دنیا کے کسی اور ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک غیر منافع بخش تنظیم وائٹل سٹرٹیجیز کی ڈاکٹر فاطمہ مارینو کی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ برازیل میں دس سال سے کم عمر کے 2200 سے زائد بچے کووڈ کی وجہ سے مو ت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ برازیل میں کووڈ سے کل 4 لاکھ 67 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں اور بچوں کی شرح اس کا 0.5 فیصد بنتی ہے۔ ان میں سے 900 بچوں کی عمریں پانچ سال سے بھی کم تھیں۔

امریکا میں کووڈ کی وجہ سے 6 لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں مگر وہاں پانچ سال سے کم عمر کے صرف 113 بچے کووڈ کی وجہ سے فوت ہوئے۔ ہم نے سائو پالو کی ریاست میں‘ جہاں برازیل کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ رہتا ہے‘ کووڈ کی وجہ سے متاثر ہونے والے بالغ افراد اور بچوں کو سٹڈی کیا۔ ہمارے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ رپورٹ ہونے والے اور ہسپتال میں داخل ہونے والے بالغ اور کم عمرمریضوں کی تعداد میں 2020ء کے مقابلے میں اب اضافہ ہوا ہے۔ ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں 900 بچے ایسے تھے جن کی عمریں پانچ سال سے بھی کم تھیں۔ جب گزشتہ سال کووڈ کا آغاز ہوا تھا تو بچے بہت کم متاثر ہوئے تھے اور بچوں میں اس کی شدت بھی بالغوں سے کم تھی۔

برازیل کے ہسپتالوں میں کووڈ کی وجہ سے داخل ہونے والے بچوں میں شرح اموات اتنی زیادہ کیوں ہے؟ اس بات کا جواب تلاش کرنا بہت اہم ہے‘ اس سے ناصرف ہم لاطینی امریکا کے بچوں کی صحت کے بارے میں جان سکیں گے بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہئے؟ اس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو برازیل میں پائے جانے والے تشویشناک ویرینٹس ہیں۔ اس وقت برازیل میں سب سے زیادہ پایا جانے والا ویرینٹ P.I ہے جسے اب ڈبلیو ایچ او کے اعلان کے مطابق گیما کہا جا رہا ہے۔ (جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے B.1.351 کو اب بیٹا کا نام دیا گیا ہے) گیما ویرینٹ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ کووڈ کی ویکسین سے پیدا ہونے والے اینٹی باڈیز سے بچ بھی سکتا ہے۔

یہ بات بھی ممکن ہے کہ جس میوٹیشن یا تبدیلی کے بعد گیما زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اسی کی وجہ سے بچوں میں انفیکشن کے پھیلنے اور ہسپتالوں میں داخل ہونے والے بچوں کی شرح اموات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ایک اعلان کے مطابق اس وقت برازیل میں P.1 ویرینٹ سب سے زیادہ پھیلا ہے جسے اب گیما کہا جاتا ہے۔ بیٹا وائرس کی طرح گیما وائرس بھی بہت تیزی سے ایک شخص سے دوسرے تک منتقل ہوتا ہے اور یہ بھی جزوی طور پرکووڈ ویکسین سے پیدا ہونے والے اینٹی باڈیز سے بچ سکتا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ بچوں میں کووڈ کیسز میں اضافے کی وجہ بھی ہر عمر کے لوگوں میں گیما وائرس کا بے قابو پھیلائو دیکھا جا رہا ہے۔ جن حاملہ خواتین پر کووڈ کا حملہ ہوتا ہے ان پر بیماری کے شدید حملے، قبل از وقت بچے کی پیدائش اور ان کے نوزائیدہ بچے میں بھی کووڈ وائر س کی منتقلی کا امکان بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ امریکا میں گیما وائرس کی موجودگی کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا میں رپورٹ ہونے والے کل کیسز میں سے 7 فیصد کیسز گیما وائرس کے ہوتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ جلد ہی ہر طرف بچوں کے اور کووڈ کے نئے کیسز پھیلتے نظر آئیں۔ زیادہ تشویش کی وجہ بھی یہی ہے۔ B.1.1.7 ویرینٹ‘ جسے اب الفا وائرس کہا جاتا ہے‘ امریکا میں پھیلنے والے کل کیسز کا دو تہائی اسی ویرینٹ کی وجہ سے پھیلا ہے؛ تاہم بعض علاقوں میں گیما وائرس بھی تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔ الینائے میں اب تک جتنے بھی کیسز منظر عام پر آئے ہیں‘ ان میں سے 22.4 فیصد کیسز گیما وائرس کی وجہ سے پھیلے ہیں۔ میساچوسیٹس میں کل کیسز میں سے 13.6 فیصد کیسز گیما ویرینٹ کی وجہ سے پھیلنے کی اطلاع ہے۔

اگر کورونا وائرس کا گیما ویرینٹ اسی رفتار سے پھیلتا رہتا ہے اور امریکا میں ویکسین لگانے کی کوششوں کو غیر موثر کر دیتا ہے تو حکام کو ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات کرنا پڑیں گے یا نئے ویرینٹ کی شناخت کرنا ہو گی۔ ویکسین کی جو بوسٹر خوراکیں ان ویرینٹس کے لیے دی جانی ہیں‘ ان کا کردار زیادہ اہم ہو جائے گا۔ امریکا کو اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے تمام بالغ شہریوں کو ویکسین لگانے کی کوششیں پوری تندہی سے جاری رکھے اور چھوٹی عمر کے افراد اور نونہالوں کے لیے نئی ویکسین کی منظوری دی جائے۔ پبلک ہیلتھ کے حکام کو چاہئے کہ وہ والدین کو اس بات کی تعلیم دینا جاری رکھیں کہ کووڈ ان کے بچے کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے اور انہیں اس بات کے لیے بھی رضامند کرنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنی فیملی کے تمام ارکان کو کووڈ کی ویکسین لازمی لگوائیں۔ بصورت دیگر کووڈ بچوں اور خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کیلئے ایک المناک حقیقت بن کر سامنے آ سکتی ہے۔

برازیل میں کووڈ کا یہ سنگین بحران اس لیے پیدا ہوا ہے کیونکہ حکومت صحت عامہ کے حوالے سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے نہ صرف مناسب پیشگی اقدامات کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی تھی بلکہ عوام کو ویکسین کی سپلائی کے لیے بھی خاطر خواہ انتظامات نہیں کر سکی۔ جیسے جیسے زیادہ تیز رفتاری سے پھیلنے والے ویرینٹس سامنے آ رہے ہیں جنوبی امریکا، بھارت اور کانگو میں بھی ایسے اور اس سے ملتے جلتے بحران پیدا ہو رہے ہیں۔ برازیل کے تجربے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر حکومتوں اور عالمی برادری نے دلیرانہ اقدامات نہ کیے تو بچے کس طرح کی ہلاکت آفرینی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد حسین رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement