نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:100 انڈیکس 48 ہزارپوائنٹس کی حدعبورکرگیا
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹاک ایکس چینج میں 662 پوائنٹس کااضافہ
Coronavirus Updates
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

چین میں تین بچوں کی اجازت

تحریر: وینگ فینگ

جب چین نے ایک بچہ پید اکرنے کی پالیسی ترک کر کے شادی شدہ جوڑوں کو دو بچوں کی اجازت دی اس کے پانچ سال بعداب چین نے یہ اعلان کیاہے کہ شادی شدہ جوڑے اب تین بچے بھی پیدا کرسکتے ہیں۔یہ فیصلہ ا س وقت چانک سامنے آیاہے جب چینی حکومت نے ایک عشرے بعد ہونے والی مردم شماری کے نتائج دیکھے ہیں۔ چین نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2020ء میں چین میں صرف 12ملین بچے پیدا ہوئے ہیں اور شرح پیدائش میں یہ چوتھی مسلسل تنزلی ہے۔خواتین میں بچوں کی شرح پیدائش 1.3بچہ فی کس ہے جو بہت ہی کم ہے جبکہ چین کی موجودہ آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرح 2.1بچہ فی عورت ہونی چاہئے ۔

تین بچوں کی پالیسی سے نتائج کتنی تیز ی سے برآمد ہوں گے اس بارے میں کوئی بات کرنا ناقابلِ تصور اور بے محل ہوگا۔شادی شدہ جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے بھی شرح پیدائش میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔چین میں شرح پیدائش کم ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جن خواتین کے ہاں پہلے ہی دو بچے ہیں وہ زیادہ بچے پیدا کرنے کی خواہش مندہیں مگر انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔شرح پیدائش اس لیے کم ہے کیونکہ بہت سی خواتین دوسرا بچہ یاسرے سے کوئی بچہ نہیں پیدا کرنا چاہتیں۔تو چین پھریہ سارا جھنجھٹ کیوں کر رہا ہے؟پانچ سال پہلے بہت ہی سہانے دعوے کرنے کے باوجود عوام نے ایک بچے والی پابندی ختم کرنے پربھی کسی پُرجوش رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔جب حکومت کی طرف سے پالیسی میں آسانی کا اعلان کیا گیا تو 2016ء میں پہلے سال شرح پیدائش میں واقعی اضافہ دیکھنے میں آیا مگر ا س کے بعد سے اس میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

اس وقت ہمارے پا س جو اعدادوشمار ہیں ہم نے وہ چینی حکومت کی پاپولیشن اینڈ ایمپلائمنٹ ایئر بکس کی مدد سے حاصل کیے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک بچے والی پالیسی پر سے پابندی اٹھائی گئی تھی اس سے پہلے چالیس فیصد ایسی مائیں تھیں جو ایک بچہ ہونے کے بعد دوسرابچہ پیدا کرنے کے لیے بھی تیار تھیں۔پیریٹی ٹوفرٹیلیٹی کے مطابق شرح پیدائش0.4تھی۔شاید یہ تعداد بہت زیادہ لگے مگر نسلی اقلیتوں اور دیہات میں رہائش پذیر شادی شدہ جوڑے جن کے ہاں صر ف ایک بیٹی ہی پیدا ہوئی تھی انہیں اس سے مستثنیٰ کر دیا گیا تھا۔2017ء میں ان اعدادو شمار میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا جبکہ ایک بچے والی پالیسی میں رعایت دیے ابھی زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا‘تاہم 2019ء میں بچہ فی کس کی یہ شرح 0.66تک کم ہوگئی۔اب عمومی شرح پیدائش 1.3تک کم ہوچکی ہے ا س لیے فی خاتون بچے کی شرح بھی کم ہونے کاامکان ہے۔ہمارا تخمینہ ہے کہ 2020ء تک چین میں 60فیصدسے زیادہ خواتین نہیں ہوں گی جن کا ایک بچہ ہوگا او روہ دوسرا بچہ بھی پیدا کرنے کیلئے تیار ہوں گی ۔یہ شرح چینی حکومت کی توقع سے کہیں کم ہے۔اب ہمیں ان چینی خواتین کے تناسب پر بھی غو رکرنا چاہئے جن کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا ہے۔ 2009ء سے پہلے شرح پیدائش ایک فیصد کے قریب تھی ‘2016ء کے بعد سے یہ مسلسل 0.7 فیصدچل رہی ہے۔ا س کمی کی وجہ یہ ہے کہ بہت سی چینی خواتین نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ابھی شادی کریں گی نہ بچہ پیدا کریں گی۔ان کے رویے میں ایسی تبدیلی کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم شہروں کی طرف آبادی کی منتقلی ‘خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک بہتر رسائی اور معیارِ زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ توقعات ہیں۔ چین کے نیشنل بیورو برائے شماریات کے مطابق سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین کے نزدیک ہرفیملی کے لیے بچوں کی جوآئیڈیل تعداد ہے وہ حیران کن طو رپر کم ہوگئی ہے۔

چینی عوام کی طر ف سے ا س نئی پالیسی پر جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ بھی کافی اہم ہے ۔سوشل میڈیا پر پوسٹس میں اس پالیسی کا مذاق اڑایا جا رہاہے ‘اس کے بارے میں کافی لطیفے بن چکے ہیں او رکسی حد تک افسوس اورناراضی کا اظہا ر بھی کیا جا رہا ہے۔یقینا چین کی کمیونسٹ پارٹی بھی اس رد عمل سے بخوبی آگاہ ہے ‘ تو وہ ایسی پالیسی پر کیوں عمل کر رہی ہے جو پہلے ہی نامقبول ہے اور اس کا ناکامی سے دوچار ہونا بھی یقینی ہے؟حتیٰ کہ جب حکومت نے بچے پیدا کرنا بہت آسان کر دیاہے وہ ابھی تک عوام کو صر ف یہی تسلی دے رہی ہے کہ واقعی ایسے قوانین موجود ہیں اور یہ اعلان حکومت کی جانب سے ہی کیاجا رہا ہے۔یہ بھی آبادی کے کنٹرول کا ایک طریقہ ہے اور آبادی پرکنٹرول اس ریاست کی بنیاد ہوتی ہے جو اپنے ہر شہری پر اپنی گرفت اور ا س کے بارے میں مکمل معلومات رکھتی ہو۔چین کی کمیونسٹ پارٹی ا س بات کو محض ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتی ۔ فیملی پلاننگ کئی عشروں سے ریاست کی بنیادی پالیسی رہی ہے اور یہ پالیسی چین کی کمیونسٹ پارٹی کے یاد گار سوشل انجینئر نگ پراجیکٹس کا ستون رہی ہے۔آج بچوں کی تعداد پر سے پابندی اٹھا کر وہ یہ حقیقت تسلیم کر رہی ہے کہ چین کو آبادی کے معاملے پر ایک سنگین بحران کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے مگر وہ آج بھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ کہ کوئی شخص آبادی پرکنٹرول کے حوالے سے کوئی سوال یا انگلی اٹھائے ۔وہ ا س سے زیادہ برداشت کرسکتی ہے نہ کسی کو ا س پر سر عام بحث کرنے کی اجاز ت دے سکتی ہے کہ کوئی اٹھ کر 1989ء میں تیانمان سکوائر میں ہونے والے جانی نقصان پر یا کلچرل انقلا ب کے دورا ن ہونے والے مظالم پر بات کرے۔ اب چین کی حکومت نہ صر ف یہ کہ خواتین کی بچے پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہی ہے بلکہ زچگی کی چٹھیاں اور دیگر فوائد دینے کے ساتھ ساتھ یہ وعدے بھی کر رہی ہے کہ ا س مقصد کے لیے وہ ہر سطح پر ریاستی وسائل کو بھی بروئے کار لائے گی۔ا س نے ا س عزم کا بھی اظہا رکیا ہے کہ وہ نوجوانوں کی شادی اور فیملی کے تصور کے بارے میں بھی درست رہنمائی کرے گی۔بچوں کی پیدائش پر سے پابندی اٹھانادراصل چینی کمیونسٹ پارٹی کی طر ف سے اس با ت کااعتراف ہے کہ اس کی ماضی کی پالیسیز ناکام ہو چکی ہیں۔

(بشکریہ : نیویارک ٹائمز، انتخاب : دنیا ریسر چ سیل، مترجم : زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement