نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:منظورکالونی میں گھرمیں کام کےدوران کرنٹ لگنےسےایک شخص جاں بحق
  • بریکنگ :- جاں بحق شخص کی سعید رمضان کےنام سے شناخت،لاش جناح اسپتال منتقل
Coronavirus Updates
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی…(1)

تحریر: پام بیلک

وہ 2003ء میں اُس وقت اپنی قوتِ گویائی سے محروم ہو گیا تھا جب صرف 20 سال کی عمر میں ایک خوفناک حادثے کے بعد اس پر فالج کا شدید حملہ ہوا تھا مگر ریسرچرز نے ایک سائنسی سنگ میل عبو رکرتے ہوئے اس کے دماغ کے قوتِ گویائی والے حصے میں ایک ڈیوائس نصب کر دی ہے جس کے نتیجے میں وہ قابلِ فہم الفاظ اور جملوں کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ اس کا نک نیم پانچو ہے، وہ جب بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے دماغ میں نصب الیکٹروڈز ایک کمپیوٹر کو سگنلز جاری کرتے ہیں جو انہیں سکرین پر ڈسپلے کر دیتا ہے۔ ریسرچرز نے بتایا کہ اس کا پہلا قابل شناخت جملہ یہ تھا کہ ’’میری فیملی باہر ہے‘‘۔

یہ کارنامہ‘ جو اسی ہفتے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوا ہے‘ فالج کے مریضوں کے علاوہ ان تمام مریضوں کی بھی مدد کرے گا جو کسی وجہ سے اپنی قوتِ گویائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے پروفیسر آف نیورولوجی میلانی فریڈاوکن کا کہنا ہے ’’یہ اتنی بڑی کامیابی ہے جس کے بارے میں ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا‘‘۔ 

پانچو‘ جس کی عمر اب 38 سال ہے‘ آج سے تین سال پہلے نیورو سائنس ریسرچرز کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوا تھا۔ ریسرچرز کو یقین نہیں تھا کہ اس کے دماغ کا گویائی والا میکانزم ابھی تک فعال ہے یا نہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر آف نیورو سرجری ڈاکٹر ایڈورڈ چینگ‘ جنہوں نے اس ریسرچ کی نگرانی کی تھی‘ کہتے ہیں ’’دماغ کا یہ حصہ غیر فعال بھی ہو سکتا تھا اور ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کبھی اسے بولنے کے قابل بنانے کے لیے واقعی دوبارہ بیدار ہو سکتا ہے‘‘۔

ٹیم نے 128 الیکٹروڈز والی ایک مستطیل شیٹ اس کے دماغ میں نصب کر دی تھی جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ قوتِ گویائی سے متعلق سینسری اور موٹر پروسیسز کے ان سگنلز کی پہچان کر سکتی ہے جو ہمارے منہ، ہونٹوں، زبان اور جبڑوں سے منسلک ہوتے ہیں۔81 ہفتوں میں 50 سیشن ہوئے جن کے دوران انہوں نے پانچو کے سر کے ساتھ لگی ہوئی کیبل کی مدد سے اس شیٹ کو کمپیوٹر کے ساتھ جوڑ دیا اور پانچو کو 50 الفاظ پر مشتمل ایک فہرست دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان میں سے کوئی لفظ بولنے کی کوشش کرے جن میں ہنگری، میوزک اور کمپیوٹر جیسے الفاظ بھی شامل تھے۔ جب اس نے ایسا کیا تو الیکٹروڈز نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ایسے سگنلز جاری کیے جنہوں نے مطلوبہ الفاظ کی شناخت کرنے کی کوشش کی۔ ایک پوسٹ ڈاکٹرل انجینئر ڈیوڈ موزز‘ جنہوں نے دو گریجویٹ سٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر یہ سسٹم بنایا ہے‘ کا کہنا ہے ’’ہمارا سسٹم ہمارے دماغ کی اس سرگرمی کو جو عام طور پر ہمارے ووکل ٹریکٹ یعنی مخر کی نالی کو کنٹرول کرتی ہے‘ براہ راست الفاظ اور جملوں میں ترجمہ کر دیتا ہے‘‘۔ یہ تینوں ہی اس سٹڈی کے اہم مصنفین ہیں۔

پانچو (جس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے اسے صرف پانچو کے نک نیم سے متعارف کرایا گیا ہے) نے یہ 50 الفاظ 50 مختلف جملوں میں کہنے کی کوشش کی، جیسا کہ ’’میری نرس اس وقت باہر ہے، براہ کرم میرا چشمہ لا دیجیے‘‘ اس نے اس طرح کے سوالات کے جواب بھی دیے ’’آج آپ کیسے ہیں؟‘‘ تو سکرین پر اس کاجواب نمودار ہوا کہ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘‘۔ پانچو پر 9000 مرتبہ کوشش کی گئی اور ان میں سے نصف میں اس نے سنگل لفظ بولنے کی کوشش کی اور سسٹم نے اسے بالکل صحیح سمجھ بھی لیا۔ سکرین پر لکھے ہوئے جملے بولنے میں اس کی کارکردگی زیادہ بہتر تھی۔ آٹو کُریکٹ لینگویج پریڈکشن سسٹم کی مدد سے جب ان نتائج کی چھان پھٹک کی گئی تو کمپیوٹر نے ان جملوں میں سے تین چوتھائی انفرادی الفاظ کو شناخت کر لیا اور ان تمام جملوں کو آدھے وقت میں درست انداز میں ڈی کوڈ بھی کر لیا۔ ڈاکٹر فریڈ اوکن‘ جن کی اپنی ریسرچ سر پر پہنی ٹوپی میں الیکٹروڈز لگا کر سگنلز کی شناخت سے متعلق ہے مگر اسے دماغ میں نصب نہیں کیا گیا‘ کا کہنا ہے ’’اہم کامیابی یہ ہے کہ ہم دماغ کے گویائی کے موٹر ایریا میں برقی سگنلز کو عام زبان میں منتقل کرنے کو عملی طور پر ثابت کر نے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘‘۔

ایک حالیہ سیشن میں‘ جس کا نیویارک ٹائمز نے بھی مشاہدہ کیا ہے‘ پانچو‘ جس نے اپنے سر پر سیاہ ہیٹ پہن رکھا تھا‘ مسکرا کر اپنے سر کو تھوڑی سی حرکت بھی دی تھی۔ اس سٹڈی میں اس نے ایک جملہ بھی بولا تھا کہ ’’نہیں! مجھے پیاس نہیں لگی ہے‘‘۔ اس آرٹیکل کے لیے پانچو نے ہمیں کئی انٹرویوز دیے، اس نے سر کے ذریعے کنٹرول کیے گئے مائوس کی مدد سے ہمارے ساتھ بات چیت کی، وہ اسی طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ دماغ میں لگی اس ڈیوائس کی مدد سے اپنے بولے ہوئے الفاظ کی پہچان میرے لیے ایک انقلاب آفرین تجربہ ہے۔ پانچو نے شمالی کیلیفورنیا کے نرسنگ ہوم سے‘ جہاں وہ رہائش پذیر ہے‘ ایک وڈیو چیٹ میں ٹائپ کر کے بتایا ’’میں نہیں جانتا مگر میں کچھ اچھی بات دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ ڈاکٹرز نے مجھے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میرے بہتر ہونے کا زیرو چانس ہے‘‘۔ ایک ای میل کے ذریعے اس نے بتایا ’’ابھی تک میں کسی کے ساتھ بات نہیں کر سکتا، نارمل گفتگو نہیں کر سکتا، اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا، ان حالات میں زندہ رہنا بہت مشکل اور تکلیف دہ ہے‘‘۔ 

الیکٹروڈز کی مدد سے ریسرچ کے دوران اس نے لکھا ’’یہ بالکل ایسے ہی لگ رہا ہے کہ میں دوسری بار بولنا سیکھ رہا ہوں‘‘۔ ا س نے بتایا کہ وہ کیلیفورنیا کے انگور کے کھیتوں میں کام کرنے والا ایک صحت مند فیلڈ ورکر تھا کہ گرمیوں کی ایک اتوار کو فٹ بال میچ دیکھنے کے بعد اس کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ اس حادثے میں اس کے معدے پر شدید چوٹ لگی۔ معدے کی سرجری کے بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ وہ چل پھر سکتا تھا، بات چیت کر سکتا تھا، اس کا دماغ صحیح کام کر سکتا تھا۔ وہ صحت یابی کی راہ پر کامیابی سے گامزن تھا۔ اس نے لکھا ’’پھراگلی صبح میں گر رہا تھا اور میں اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھا‘‘۔ ا س نے مزید لکھا کہ ڈاکٹرز نے بتایا کہ فالج کے شدید حملے میں میرے دماغ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ سرجری ہونے کے بعد دماغ میں خون کا ایک لوتھڑا آ جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ (جاری) 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement