نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی ہلاکت کےواقعہ میں پیشرفت
  • بریکنگ :- مرکزی ملزم فرحان ادریس کوگرفتارکرلیاگیا،ترجمان پنجاب پولیس
  • بریکنگ :- ملزم فرحان کوویڈیومیں تشددکرتےاوراشتعال دلاتےدیکھاجاسکتاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- پولیس کی مدعیت میں دہشتگردی کی دفعات کےتحت مقدمہ درج ،ترجمان
  • بریکنگ :- واقعہ میں ملوث 100سےزائدافرادکوحراست میں لےلیاگیا،ترجمان
  • بریکنگ :- سی سی ٹی وی فوٹیج سےشناخت کاعمل جاری ہے،ترجمان پنجاب پولیس
  • بریکنگ :- دیگرملزمان کی گرفتاری کیلئےچھاپےجاری ہیں،ترجمان پنجاب پولیس
Coronavirus Updates
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

گلاسگو سربراہ کانفرنس اور ماحولیات

تحریر: اداریہ: نیویارک ٹائمز

1992ء میں 150سے زائد ممالک برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں جمع ہوئے اور اس امر پر اتفاقِ رائے قائم کیا گیا تھا کہ ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہائوس گیسز کے اخراج کو اس سطح پر روکیں گے جہاں یہ انسان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کی وجہ سے ہمارے ماحولیاتی نظام کو تباہ نہ کر سکیں۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کو گلوبل وارمنگ کا نام دیا تھا۔ اس کے بعد اب تک کئی فالو اَپ اجلاس ہو چکے ہیں، ان میں بڑے بڑے وعدے اور خواہشات کا اظہار تو کیا گیا مگر عملی طور پر کوئی اقدام نہیں ہوا۔ گیسز کا اخراج پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہے اور اس کے نتیجے میں زمینی درجہ حرارت میں بھی خاصا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی، قحط اور خشک سالی، سیلاب، دنیا بھر میں جنگلات میں لگنے والی آگ، پہاڑوں پر جمی برف اور گلیشیرز کے پگھلنے کا عمل اور سمندروں کے پانی کی سطح میں سست رفتار مگرناقابل واپسی اضافہ‘ یہ سب مسائل اب پہلے سے بھی زیادہ سنگین خطرہ بن کر ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔

ماحولیات سے متعلق عالمی سربراہ کانفرنس 31 اکتوبر کو برطانوی شہر گلاسگو میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس میں ریوڈی جنیرو کے معاہدے پر دستخط کرنے والے 197 عالمی ممالک ایک مرتبہ پھر کوشش کریں گے کہ پھر سے ایک ایسا عالمی معاہدہ ہو جائے جس کی مدد سے کاربن کے اخراج میں پائیدار حد تک کمی ہو سکے (اور امید بھی ہے کہ یہ معاہدہ بہت جلد ہو جائے گا) جس کے نتیجے میں اس صدی کے آخر تک اس دنیا کو مکمل تباہی کے گڑھے میں گرنے سے روکا جا سکے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ 1997ء میں کیوٹو میں، 2009ء میں کوپن ہیگن میں اور 2015ء میں پیرس میں ماحولیات کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنسز کے مقابلے میں گلاسگو کی ماحولیاتی کانفرنس کو ایک تاریخ ساز ایونٹ کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ہونے والی تمام کانفرنسز کے مقابلے میں پیرس میں منعقد ہونے والے اجلاس کو جزوی طور پر ایک بڑی اور تاریخی کامیابی کہا جا سکتا ہے کیونکہ مذاکرات کار اپنی سالہا سال کی سابقہ بے ثمر کوششوں کو ترک کرکے قانونی طور پر قابل عمل اہداف طے کر نے میں کامیاب رہے جبکہ اس سے پہلے بات محض رضاکارانہ وعدوں تک محدود تھی جنہیں قومی سطح پر طے شدہ پیشرفت کا نام دیا جاتا تھا۔ چھوٹی بڑی تمام اقوام اس اجتماعی کارِ خیر میں حصہ لینے کی ہر ممکن اور بہترین کوششیں کر رہی تھی تاکہ زمین کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کے زمینی درجہ حرارت سے صرف 1.5 ڈگری سیلسیئس یا 2.7 ڈگری فارن ہائیٹ کی اوسط سطح پر روکا جا سکے۔ ہماری زمین جتنی گرم آج ہے‘ یہ اس سے قدرے زیادہ درجہ حرارت ہو گا۔1.5 ڈگری کو اس لیے ایک معیار سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے زیادہ گلوبل وارمنگ کے ہمیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

پیرس کانفرنس کے بعد کسی قسم کی پیشرفت کے فقدان کی وجہ سے گلاسگو کانفرنس سے بھی زیادہ امیدیں وابستہ کرنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ اس وقت سے فضا میں جمع ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر ایک ملین میں اس کا سالانہ اوسط حصہ 400 تک پہنچ گیا ہے اور اسے عرصے سے انتہائی خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ 2019ء میں دنیا بھر میں کاربن اور گرین گیسز کے سالانہ اخراج کا ریکارڈ قائم ہو گیا جب ان گیسز کا 60 ارب ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ کووڈ کی وجہ سے ہونے والی معاشی تنزلی کے پیش نظر کسی بھی ملک کو اس طرف دھیان دینے یا عملی اقدام کرنے کا خیال نہیں آیا۔ گلاسگو میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے انعقاد میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، چین، آسٹریلیا، روس اور بھارت نے کاربن اور گرین گیسز کے اخراج میں کمی کرنے کے نئے وعدے ابھی کرنا ہیں۔ حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ برازیل اور میکسیکو نے آج سے پانچ سال پہلے پیرس کانفرنس کے موقع پر کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کے لیے جو اہداف دیے تھے اب انہوں نے ان سے کہیں کم اہداف دیے ہیں۔ اکثر ممالک‘ جنہوں نے اس ضمن میں نئے وعدوں اور عزائم کا اعادہ کیا ہے‘ نے اس مرتبہ وسط صدی تک کاربن اخراج کے نیٹ زیرو ہدف کے حصول کے لیے بڑے مبہم سے وعدے کیے ہیں۔ اب جو اہم سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ کیا گلاسگو کانفرنس میں شرکت کرے والے عالمی وفود دنیا کو اس مایوس کن صورتحال سے نکالنے کے لیے اپنے مفادات سے ماورا ہو کر کچھ عملی اقدامات کر کے ہمیں حیران کر سکتے ہیں؟ افسوسناک پیش گوئیوں کے برعکس جب سے پیرس کانفرنس ہوئی ہے‘ ایسا بہت کچھ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہم سب میں امید کی نئی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔

سب سے پہلے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی سائنس پہلے سے زیادہ سخت اور خوفناک ہو چکی ہے۔2018 ء میں انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج نے انتہائی خوفزدہ کرنے والی وارننگ جاری کی جسے اقوام متحدہ کے حکام نے ’’کچن سے اٹھنے والے دھویں کا خوفناک الارم‘‘ قرار دیا۔ اس وارننگ کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ اگر دنیا واقعی 1.5 ڈگری درجہ حرارت والا ہدف حاصل کرکے ماحولیاتی، موسمیاتی اور سماجی تباہی سے بچنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنے انرجی سسٹم کو کچھ رہنما اصولوں کے قالب میں ڈھالے بلکہ 2030ء تک بارہ برسوں میں گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں کم از کم نصف کمی لانے کے لیے اقدامات بھی کرے تاکہ ہم 2050ء تک کاربن اخراج کو زیرو پر لانے کا ہدف حاصل کر نے کے قابل ہو سکیں۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج نے اس سال اگست میں ایک بار پھر الارمنگ رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اتنی مقدار ہماری فضا میں جمع ہو چکی ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں بہت زیادہ اور ناگزیر ماحولیاتی اور سماجی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جو سیلابوں، خشک سالی، قحط اور جنگلات میں آتشزدگی کی صورت میں نمودار ہو سکتا ہے اور دنیا کو ابھی سے ان آفات سے نمٹنے کی تیاری اور منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہئے۔ اس پینل نے جو کچھ 2018ء میں کیا تھا اس نے امید کی ایک کھڑکی ضرور کھول دی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ ہم کاروں، پاور پلانٹس اور فیکٹریوں میں معدنی تیل کے استعمال میں کمی لانے کے لیے تیز رفتار اور پائیدار اقدامات کر کے اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ کر کے ہی اپنے اس کرۂ ارض کو کاربن کی آلودگی سے پاک کرکے یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہم 1.5 ڈگری کا ہدف حاصل کر کے اپنی نسلوں کو ایک تاریک مستقبل سے بچا سکتے ہیں۔ گلاسگو کانفرنس میں سب سے اہم ایشو یہ ہوگا کہ کیا اس کے شرکا یہ سننا پسند کریں گے کہ سائنس ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے، کیا وہ یہ دیکھنا پسند کریں گے کہ اس وقت ہمارے اردگرد اس کرۂ ارض پر کیا ہو رہا ہے اور سب سے مشکل اقدام یہ کہ کیا وہ دنیا بھر کے انسانوں کی خواہشات کی تکمیل کیلئے کوئی ٹھوس ایکشن پلان دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

(انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement