ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

امریکی ڈی ریگولیشن اور توانائی کی قیمتیں

تحریر: آیون پین

جب 1990ء کی دہائی میں کیلیفورنیا، ٹیکساس، نیویارک اور کئی دیگر امریکی ریاستوں نے بجلی مارکیٹس کی ڈی ریگولیشن کی تو حکام نے وعدہ کیا تھا کہ ان تبدیلیوں سے مسابقت پیدا ہو گی جو توانائی کی قیمتوں میںکمی کا باعث بنے گی مگر نتائج ویسے نہ نکلے۔ جن 35 ریاستوں نے ڈی ریگولیشن کی تھی اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو الگ الگ کر دیا تھا‘ تو وہاں اوریگن اور فلوریڈا سمیت پندرہ ریاستوں کے مقابلے میں بجلی کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔ ان ریاستوں میں گزشتہ سال‘ جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا‘ سمیت یہ فرق پچھلی دو دہائیوں سے برقرار ہے۔ جن ریاستوں میں ڈی ریگولیشن ہوئی ہے‘ ان کے باسی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ہر ماہ بجلی کی مد میں 40 ڈالر زیادہ ادا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ 1998ء سے جاری ہے۔

ایک انرجی ریسرچر رابرٹ میک گلو کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ کی کار بیس سال سے کام نہ کر رہی ہو تو آپ اسے ڈیلر کی راہ دکھاتے ہیں‘‘۔ جن ریاستوں میں ڈی ریگولیشن ہو چکی ہے‘ وہاں صارفین کو ان سپلائی لائنز کے اخراجات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں جو سینکڑوں میل تک بجلی لے کر جاتی ہیں اور حکومت ان ریاستوں میں اخراجات کا شاید ہی ریویو کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جن ریاستوںمیں ڈی ریگولیشن نہیں ہوئی وہاں کے حکام بجلی کے ریٹس پر بہتر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ڈی ریگولیٹڈ ریاستوں میں بجلی کے ہول سیل ریٹس زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کا منافع بجلی کے وہ سپلائرز لے جاتے ہیں جن کا بجلی کی پیداوا ر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جبکہ ریگولیٹڈ ریاستوں میں انرجی کی پیداوار اور فراہمی کا سارا کنٹرول مارکیٹ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ الیکٹریسٹی مارکیٹس کی ڈی ریگولیشن، انرجی انڈسٹری کے ایگزیکٹوز اور ریگولیٹرز کی طرف سے ایک بھرپور بحث، تجزیے کی متقاضی ہے۔ میک گلو جیسے ناقدین کے نزدیک بجلی کے ریٹس میں اتنا فرق ڈی ریگولیشن کے خلاف ایک مضبوط کیس بناتا ہے۔ ہارورڈ میںکینیڈی سکول میںگلوبل انرجی پالیسی کے پروفیسر ولیم ہوگن سمیت کئی تجزیہ کاروںکے خیال میں بزنس اداروںکے بجلی پیدا کرنے اور اس کی ہول سیل مارکیٹ میں تجارت کرنے سے سسٹم زیادہ مؤثر اور کارگر ثابت ہوتا ہے۔

بائیڈن حکومت کے متعدد عہدیداروں سمیت کئی لوگوں کا مؤقف ہے کہ بجلی کے حوالے سے ریجنل اپروچ ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے مفید ہے کیونکہ اس طرح بہت سی کمپنیوں کو پون (وِنڈ) اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ میں ڈالنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ڈی ریگولیشن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ توانائی کے لیے چند کمپنیوں پر انحصار اب اتنا سود مند نہیں رہا؛ تاہم پچھلی صدی کے دوران بجلی کی قیمتوں کا تعین پیداوار، ترسیل اور تقسیم کاروںکے ہاتھ میں ہی رہا۔ حکومتیں ان کمپنیوںکی اجارہ داری قائم رکھ کر انہیں ریگولیٹ کرتی رہی ہیں؛ تاہم ڈی ریگولیشن کے حامی کہتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوںکا تعین کرنے والے قانون ساز ی اور ریگولیٹرز پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں مسٹر ہوگن تبدیلی کی ایک قوی آواز بن کر ابھرے تھے۔ ان کے خیالات کو سب سے پہلے کیلیفورنیا میں مقبولیت ملی تھی۔

 1996ء میں کیلیفورنیا کی قانون ساز اسمبلی اور گورنر پیٹ ولسن نے انرجی مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کر دیا۔ ریاست کے تین بڑے ادارے پی جی اینڈ ای، سدرن کیلیفورنیا ایڈیسن اور سان ڈیاگو گیس اینڈ الیکٹرک آج بھی بجلی فراہم کر رہے ہوتے مگر انہیںاپنی زیادہ تر بجلی پرائیویٹ ہول سیل مارکیٹ سے خریدنا پڑتی۔ مسٹر ہوگن کہتے ہیں کہ ’’ہم بجلی کی ایک ہول سیل مارکیٹ چاہتے تھے تاکہ جو کوئی بھی اس میںشریک ہونا چاہتا ہو شرکت کر سکے‘‘ ؛ تاہم کیلیفورنیا میں ڈی ریگولیشن کا عمل جلد ہی قیمتوں میں اضافے اور مسلسل بلیک آئوٹ کی وجہ سے ایک تباہی سے دوچار ہو گیا۔ اس کا الزام ان تاجروں اور دیگر نئی کمپنیوں پر عائد ہوا اور اس بحران سے یہ بھی پتا چلا کہ ریاست نے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے تھے۔

کیلیفورنیا نے 2000ء کی دہائی میں اپنے سسٹم کو مضبوط بنا لیاتھا مگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مہنگی بجلی اور حالیہ لوڈشیڈنگ تو ناکامی کی داستان سناتی ہے۔ سٹاکٹن‘ کیلیفورنیا کی رہائشی ایسپرینزا ویلما کہتی ہیں کہ مجھے اپنے گیارہ سو مربع فٹ کے گھر کے لیے ہر ماہ پی جی اینڈ ای کو 300 ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ گزشتہ موسم گرما میں گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے میرا ماہانہ بل 600 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ پی جی اینڈ ای کے ریٹس اس لیے زیادہ ہیں کیونکہ اسے پاور لائنز پر بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ 

یوٹیلیٹی ریفارم نیٹ ورک کے مطابق 2006ء کے بعد سے صارفین بجلی کی ترسیل کے جو اخراجات ادا کرتے تھے‘ اب تک ان میں 411 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ کیلیفورنیا میں ہونے والی خشک سالی بھی ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوںکا شاخسانہ تھی۔ پی جی اینڈ ای کے آلات سوکھے درختوں کو چھو کر آتشزدگی کا باعث بنتے ہیں اور کمپنی کو اپنی سیفٹی پر اربوں ڈالرز خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ پی جی اینڈ ای مہنگی بجلی کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والے بوجھ کا اعتراف کرتی ہے اور وہ ان میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کہتی ہے کہ وہ وفاقی گورنمنٹ سے مزید فنڈز مانگ رہی ہے، اپنا سان فرانسسکو کا دفتر فروخت کر رہی ہے اور وائرلیس کمپنیوںکو اجازت دے رہی ہے کہ وہ اپنے آلات بجلی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکا لیا کریں۔ کمپنی ترجمان لنزے پائولو کا کہنا ہے کہ ہم صاف اور قابلِ بھروسہ انرجی کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہیں۔ نیز ان ریٹس کی منظوری تو ریاست اور فیڈرل گورنمنٹ کے ریگولیٹرز دیتے ہیں۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے کسٹمرز کے لیے برھتی ہوئی لاگت کو کم کرنا ہے‘‘۔ 

ریاستی سسٹم آپریٹر کے کنسلٹنٹ سکاٹ ہاروے کا کہنا ہے کہ ہم ان تمام تخمینوں کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں مگر یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ لاگت کے نرخ بہت زیادہ ہیں اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان میں کسی حد تک ابہام بھی پایا جاتا ہے؛ چونکہ کمپنیاں یوٹیلیٹی کے آلات کو اَپ گریڈ کر رہی ہیں‘ اس لیے لاگت میںشارٹ ٹرم اضافہ ہو جاتا ہے۔ مجھے اس مسئلے پر خاصی تشویش ہے ہم خود کو کئی طرح کے چوائسز میں مقید پاتے ہیں۔ ایک این جی او ’’پبلک سٹیزن‘‘ کے ڈائریکٹر ٹائسن سلوکم کہتے ہیں کہ ’’مسابقت کا مقصد تو یہ تھا کہ صارفین کو بجلی کی کم قیمت ادا کرنا پڑے مگر اس کی وجہ سے صارفین بجلی کی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیںجو نسبتاً سستی ہونی چاہئے تھی۔ درحقیقت یہ مارکیٹس کارکردگی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر نہیںہیں۔ یہ ہمیشہ کم لاگت کے لیے ہمارا آپشن نہیں ہوتا‘‘۔

بجلی کی مارکیٹس پر ایک ورکنگ پیپر میں دو ماہرین معاشیات ایک جیسے نتیجے پر پہنچے ہیں ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جنریشن کمپنیوں کی طرف سے بہت زیادہ مارک اَپ چارج کرنا بھی بجلی کی لاگت میں اضافے کا سبب ہے کیونکہ اس سے بجلی کی ہول سیل لاگت بڑھ جاتی ہے‘‘۔ ایک سابق ریاستی انرجی ریگولیٹر برائن شیہان‘ جو الینائے کامرس کمیشن کے چیئرمین تھے‘ کہتے ہیں کہ انرجی کی قیمتیں آنے والے دنوںمیں بھی بڑھتی رہیں گی جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوںکے پیش نظر کمپنیوںکو گرڈز پر اربوں ڈالرز خرچ کرنا پڑیں گے۔ 

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement