ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا استعفیٰ …(2)

تحریر: ڈیمین کیو

جو قوم ایسے مناظر دیکھنے کی عادی نہیں تھی‘ احتجاجی مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد نے اسے ایک شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ کچھ لوگ مظاہرین پر الزام تراشی کر رہے تھے اور کئی دوسرے پولیس اور حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے۔ ڈاکٹر تھورنلے کہتے ہیں کہ ’’اس میں کوئی شک نہیںکہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا‘‘۔ نیوزی لینڈ کے ایک صحافی اور لکھاری ڈائلن ریو‘ جنہوں نے ملک میں گمراہ کن انفارمیشن کے فروغ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے‘ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی عالمی سطح کی مقبولیت نے سازشی عناصر کی طرف سے ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’یہ حقیقت کہ انہیں اچانک ایک عالمی شہرت مل گئی اور ان کے کووڈ کے خلاف فوری ردعمل کی وجہ سے پوری دنیا میں انہیں جس طرح خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا‘ اس نے مقامی سازی تھیوری پیش کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ایسے عناصر کو دنیا بھر سے جیسنڈا آرڈرن مخالف نظریات رکھنے والے ہم خیال افراد کی ایسی سپورٹ ملی جو نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کی عالمی اہمیت سے کوئی مماثلت اور مطابقت نہیں رکھتی تھی‘‘۔

کووڈ میں کمی واقع ہونے کے باوجود ان پر حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر راجر سٹون نے پچھلے ماہ جیسنڈا کی کووڈ اپروچ کی مذمت کی تھی جسے وہ مطلق العنانیت کا جیک بُوٹ کہہ رہے تھے۔ جمعرات کے روز اپنی تقریر میں جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ناقدین کے کسی خاص گروپ کا ذکر نہیں کیا مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ عوام کی مدد نہیں کر سکیں؛ تاہم اپنے فرائض کی تکمیل میں‘ جس دور میں وہ بطور وزیراعظم حکومت چلا رہی تھیں‘ انہیں ان عوامل کے شدید دبائو کا سامنا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں یہ بات اچھی طرح جانتی اور سمجھتی ہوں کہ میرے اس فیصلے کے اعلان کے بعد بہت زیادہ بحث ہو گی کہ اس فیصلے کی حقیقی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ آپ کو اس میں جو ایک ہی دلچسپ زاویہ نظر آئے گا‘ وہ یہ کہ میں چھ سال سے مسلسل بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہوں‘ آخرکار میں بھی ایک انسان ہوں۔ سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں۔ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں‘ کرتے ہیں اور جب تک کر سکتے ہیں‘ کرتے رہتے ہیں مگر ایک مخصوص وقت تک! اب میرے لیے میرا وقت آ گیا ہے‘‘۔

میسی یونیورسٹی نیوزی لینڈ کے ایک لیڈر شپ سکالر سوزو ولسن کہتے ہیں کہ ہمیں جیسنڈا آرڈرن کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدسلوکی اور بدزبانی کو ان کی نسوانیت سے جدا نہیں کیا جا سکا اور ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ ’’درحقیقت وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ اب ان میں بطور وزیراعظم کام کرنے کے لیے اتنی طاقت اور توانائی نہیں بچی، میر ے خیال میں جس بات نے ان کے ذہن میں ایسی سوچ پیدا کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا‘ وہ یہ ہے کہ ان کی نسوانیت کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ خواتین دشمنی پر مبنی متعصبانہ رویہ اپنایا گیا‘‘۔ جمعرات کے روزکرائسٹ چرچ کے پارکوں اور کلبوں میں نیوزی لینڈ کے شہریوںکو اس فیصلے کے اعلان کے بعد منتشر اور منقسم پایا گیا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں کی دو مساجد میں کچھ عرصہ پہلے عبادت میں مصروف اکیاون سے زائد مسلمان شہریوں کو ایک سفید فام آسٹریلوی نسل پرست قاتل نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا‘ اس واقعے کے بعد مسز جیسنڈا آرڈرن کے فوری اور مثبت ردِعمل پر انہیں پوری دنیا میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔ آج اسی شہر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر یہ شکوے کیے جا رہے تھے کہ حکومت نے جتنے بھی وعدے کیے تھے‘ وہ پورے نہیں کیے گئے اور اسی طرح رہائشی سہولتوں کے مہنگا ہونے پر ان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ٹونی میکفرسن‘ جن کی عمر اس وقت بہتر سال سے زائد ہے اور وہ کرائسٹ چرچ میں اس مسجد کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں جہاں آج سے تقریباً چار سال قبل دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا‘ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑ کر جانے والی جیسنڈا آرڈرن کے بارے میں کہا کہ وہ ایسی لیڈر ہیں جو باتیں تو بہت اچھی کر لیتی ہیں مگر زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کر سکتیں۔ ٹونی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے عوام کے رہائش اور صحت عامہ کے مسائل کو نظر انداز کیا مگر امیگریشن کے مسئلے پر یہ کہتے ہوئے نرم رویے کا مظاہرہ کیا کہ ہمارے ہاں کاروباری اداروں کو پہلے ہی سٹاف کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کووڈ کی وجہ سے لاک ڈائون ہونے پر ملکی سرحدیں بند کر دی گئی تھیں اور انہیں دوبارہ کھولنے میں تاخیر ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک معاشی مسائل کو ملکی سیاست میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ متعدد مرتبہ ہونے والے سرویز کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسز جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی مرکز مائل دائیں بازو کی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی سے مقبولیت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہے جس کی قیادت کرسٹو فر لکسن کر رہے ہیں جو پیشے کے اعتبار سے ایک سابق ایوی ایشن ایگزیکٹو ہیں۔

شیلی سمتھ‘ اس وقت جن کی عمر باون سال ہے اور وہ اس وقت کرائسٹ چرچ کے ایک کلب میں بطور موٹل منیجر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں‘ کا کہنا ہے کہ جب میں نے یہ خبر سنی کہ مسز جیسنڈا آرڈرن وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں تو مجھے سخت حیرانی ہوئی۔ شیلی سمتھ جیسنڈا آرڈرن کی بڑی مداح ہیں اور کہتی ہیں کہ 2020ء میں جب ان کی کمیونٹی کووڈ کے پھیلائو کی وجہ سے شدید دبائو محسوس کر رہی تھی تو انہوں نے جس کامیاب طریقے سے اس بحران کا سامنا کیا‘ وہ قابلِ تحسین ہے؛ تاہم پوری دنیا کی طرح نیوزی لینڈ کی معیشت پر بھی اس کے سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ میں نے شیلی سے استفسار کیا کہ اب جبکہ مسز جیسنڈا اپنا منصب چھوڑ کر جا رہی ہیں تو آپ انہیں کن الفاظ میں یاد کریں گی؟ اس نے جواب دیا کہ ’’ایک انسان کے نمائندے کے طور پر‘‘۔

ممکن ہے کہ جیسنڈا آرڈرن کی مقبولیت میں کسی حد تک کمی واقع ہو گئی ہو؛ تاہم نیوزی لینڈ کے عوا م کی اکثریت کو یہ توقع اور امید نہیں ہے کہ وہ ملکی سیاست کے منظر نامے سے زیادہ عرصے تک غائب رہیں گی۔ ہیلن کلارک بھی نیوزی لینڈ کی ایک سابق وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور جیسنڈا آرڈرن کی مینٹور یعنی سیاسی سر پرست سمجھی جاتی ہیں۔ جیسنڈا کے دور میں وہ زیادہ وقت ان کے آفس میں موجود رہی ہیں اور ان کی ساری توجہ بہت سی عالمی تنظیموں کے ساتھ بین الاقوامی مسائل پر مرکوز رہتی تھی۔ ان کا بھی یہی خیال ہے۔ پروفیسر شا نے جیسنڈا آرڈرن کے بارے میں کہا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ دنیا کے منظر سے غائب ہو جائیں گی۔ مجھے امید ہے کہ وہ کسی بڑے پلیٹ فارم پر نظر آئیں گی‘‘۔

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement