ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

ترکیہ میں زلزلہ اور طیب اردوان … (1)

تحریر: لیڈیا پول گرین

اس تیزی سے بڑھتے ہوئے قبرستان کی ہر قبر کے نیچے ایک المناک کہانی  پوشیدہ ہے۔ ایک صبح فجر کے وقت ذکی کربابا نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ ذکی کربابا کا ایک بھائی حمید‘ اس کی اہلیہ فاطمہ اور دو بچے دس سالہ احمد اور تین سالہ ایورا‘ اس وقت موت کے منہ میں چلے گئے جب زلزلے کے خوفناک جھٹکوں کی وجہ سے ان کی اپارٹمنٹ بلڈنگ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ یہ تو محض ایک نقطۂ آغاز تھا۔ کربابا نے بتایا کہ ’’اگلے تین روز ہمیں وہاں کوئی امدادی ورکر نہ ملا۔ جس وقت ہمیں اپنے بھائی کی فیملی ملی‘ وہ سب انتقال کر چکے تھے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے ان کی لاشیں نکالیں‘ اس دوران کوئی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا۔میں نے پورا ایک ہفتہ جنوب مشرقی ترکیہ میں سفر میں گزارا جہاں ہر طرف مجھے ایک ہی طرح کی باتیں سننے کو ملیں۔ پورا ترکیہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے باہر نکلنے کی سرتوڑکوشش کررہا ہے۔ ترکیہ اور شام میں پچاس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق ترکیہ  کی مجموعی قومی پیدا وار یعنی جی ڈی پی کو چونتیس ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

طیب اردوان کی حکومت نے اسے ایک  ایسی ہولناک قدرتی آفت کے طور پر پیش کیا ہے جس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ مگر ادیامان سٹی کے ایک ریسکیو ورکر ارسلان نے مجھے بتایا ہے کہ ’’اس تباہی میں قدرت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ریاست نے ان لوگوں کو ناکام کیا انہیں اس طرح نہیں مرنا چاہیے تھا‘‘۔ موت اور تباہی کے اس سارے کھیل نے ترک عوام کے اپنی حکومت پر اعتماد کو شدید زک پہنچائی ہے۔ زلزلے سے طیب اردوان کے امیج کو بہت نقصان پہنچا ہے اور حکومتی تضادات نمایاں ہو گئے ہیں۔ اپنی اہلیت کے بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومت جب مشکل کے وقت کہیں نظر نہ آئے تو اس سے عوام کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ترک عوام کو اس طرح کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 کئی نسلوںسے ترک شہریوں کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ حکومت یعنی مادرِ وطن ان کی حفاظت کرے گی۔ اس بات کا فائدہ موجودہ حکومت سے زیادہ شاید ہی کسی نے اٹھایا ہو۔ وہ پچھلے تباہ کن زلزلے کے بعد ہی وجود میں آئی تھی جس نے 1999ء میں استنبول کو ہلاکر رکھ دیا تھا اور اس میںسترہ ہزار افراد مارے گئے تھے۔ جیسا کہ پچھلے ماہ دیکھنے میں آیا‘ متاثرین کئی روز تک کسی امداد ی کارروائی کی امید پر ملبے کے ڈھیروں تلے دبے رہے مگر یہ مدد بالکل نہ آئی یا بہت تاخیر سے پہنچی۔ ایک ترک رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ ’’میں یہ تو نہیں کہتا کہ شہری دفاع کی تنظیمیں بالکل ہی ختم ہوگئی ہیں۔ یہ موجود نہیں ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی جگہ کوئی تیاری نہیں تھی‘‘۔ کابینہ کے ایک رکن نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کا ردعمل ترکیہ کے سیاسی اور معاشی نظام کے دیوالیہ پن کا اعلان تھا۔ زلزلے نے تمام نظریاتی دعووں کا بھرکس نکال دیا۔ اس ملبے کے نیچے ترکی کا سیاسی اور انتظامی سسٹم دفن ہے‘‘۔

ترک عوام کے ساتھ ریاست کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے خیال میں حکومت کی طرف سے تباہ کن رد عمل کی وجہ کرپٹ گورننس اور اشرافیہ کا زوال پذیر بے حس رویہ ہے جو دراصل ایک سیکولر اور قوم  پرست اسٹیبلشمنٹ کی شکست ہے جو انقرہ میں موجود ہے۔ طیب اردوان استنبول کے میئر تھے اور اس وقت حکومت کے سخت ترین اور نمایا ں ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی نئی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اس وقت برسر اقتدار آئی جب اس کی قیادت دیانت دار کاروباری شخصیات کے پاس تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے عام شہری کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں مگر آج بیس سال سے زائد گزر چکے ہیں اور اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ پرانی اشرافیہ کوجتنی کرپشن کرنے میں آٹھ عشرے لگے‘ موجودہ اشرافیہ نے یہ ہدف محض دو عشروں میں حاصل کر لیا ہے۔ ترک امور کے ایک تجزیہ کار سلیم کورو کہتے ہیں کہ ’’کسی بھی جدید نظام میں جب بھی آپ کو کسی غلط چیز سے واسطہ پڑتا ہے تو آپ توقع کرتے ہیں کہ ریاست آپ کی داد رسی کے لیے آئے گی۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ کوئی آپ کی پکار سن کر جواب دے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو لوگ بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ترکیہ میں ناخوش لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ حال ہی میں ترکی میں فٹ بال شائقین نے نعر ے لگائے ’’گزشتہ بیس سال سے جھوٹ‘ جھوٹ اور بس جھوٹ۔ استعفیٰ دو‘‘۔ ایسا ہونے کی توقع نہیں تھی۔

طیب اردوان اور ان کی پارٹی استنبول میں زلزلے کے بعد اچھی گورننس اور پبلک سیفٹی کے وعدوں پر برسر اقتدار آئے تھے۔ ان کی حکومت نے تعمیراتی کام بڑے زور و شور سے شروع کیا جس سے ملکی معیشت کو بہت فروغ ملا۔ 2003-13ء کے دوران فی کس آمدنی تین گنا بڑھ گئی۔ ہر شہر میں اپارٹمنٹس کے ٹاور کھمبیوں کی طرح نمودار ہوگئے جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے مگر ان عمارتوں میں سے زیادہ تر میں کئی مہلک راز چھپے ہوئے تھے۔ جو صرف ابھی منظر عام پر آئے ہیں۔ جنوبی ترکیہ میں  واقع ایک یونیورسٹی کے سول انجنیئرنگ کے پروفیسر ادریس بدرنگولو نے مجھے بتایا کہ کس طرح ٹھیکیداروں نے سستی اور ناقص عمارتیں بنائیں۔ گھٹیا اور کم سیمنٹ استعمال کیا گیا۔ کمرشل بجری کے بجائے متبادل ناقص دریائی  پتھرسے بنی ہوئی بجری استعمال کی گئی۔ بلڈرز نے عمارتوں میں پتلا اور گھٹیا سریا استعمال کیا۔ 2018ء میں ترک صدر نے ان عمارتوں کے لیے ’’زوننگ ایمنسٹی‘‘ نامی سکیم میں مزید توسیع کرنے کا اعلان کردیا جو تعمیراتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرکے تعمیر کی گئی عمارتوں کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔ چونکہ الیکشن کا سال آگیا تھا اور اس اقدام کا مقصد ان ووٹرز کو خوش کرنا تھا جنہوں نے اپنے مکانات اور بزنس کو غیرقانونی طور پر توسیع دے رکھی تھی۔ 

اس بات کا اشارہ انہوں نے کاہرمیماراس نامی شہر میںاپنی ایک تقریر کے دوران ریمارکس کے ذریعے دیا تھا اور اس زلزلے میں اسی شہر کو سب سے زیادہ تباہی و بربادی کا سامنا کرنا تھا۔ طیب اردوان کو برسر اقتدار لانے میں 1999ء میں استنبول میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کے علاوہ شہری سہولتوں میں اضافے نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ لوگوں کی اکثریت نے محسوس کیا کہ پدرانہ شفقت رکھنے والی حکومت نے ہمیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ دانشوروں اور ایکٹویسٹس نے اپنی سول سوسائٹیز اور تنظیمیں بنا لیں جن کا مقصد ہر طرح کی مشکلات اور آفات میں ایک دوسرے کی مدد کرنا تھا۔ (جاری)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement