نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1239 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 9 لاکھ 41 ہزار 170 ہوگئی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 8 لاکھ 77 ہزار 191 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 36 ہزار 368 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 38 لاکھ 18 ہزار 36 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 2661 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 19 ہزار 756 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.41 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 42 ہزار 290 ہے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 21 ہزار 689 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 3 لاکھ 43 ہزار 926،سندھ میں 3 لاکھ 27 ہزار 604 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 35 ہزار 877،بلوچستان میں 26 ہزار 201 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد 82 ہزار 99،گلگت بلتستان میں 5 ہزار 707 کیسز
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگرفک تبدیلی

 مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارتی ہتھکنڈوں پر اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے غیر مسلم اور غیر مقامی آبادی کی مقبوضہ وادی میں آبادکاری میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں ایک لاکھ چوالیس ہزار ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا مگر 683377 کشمیری مسلمانوں کو ڈومیسائل دینے سے انکار کیا گیا۔بھارت کے یہ حربے مقبوضہ کشمیرکی نسلی‘ مذہبی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادی کی تحریک کو کمزور کرنے کی سازش ہیں۔ عالمی اداروں خصوصاً اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی تنظیموں اور حکومت پاکستان کو اس منفی پیشرفت پر گہری نظر رکھنے اوراس کے خلاف بھر پور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی مہم گزشتہ برس سے جس منظم انداز سے جاری ہے یہ صورتحال مظلوم کشمیریوں کو ان کے علاقے میں اقلیت میں تبدیل کرنے کی واضح کوشش ہے۔

اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو چند ہی برس میں مقبوضہ کشمیر کا علاقہ دولتمند اور صنعتکار ہندوؤں کے تسلط میں ہو گا اور کشمیری عوام اپنے ہی علاقے میں تیسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں گے۔ مظلوم کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کے علاقے کو بھارتی دراندازی اور آبادکاری کی مہم سے بچانا بھی اشد ضروری ہے۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ برس مئی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پر نئے ڈومسائل رولز مسلط کئے اور غیر کشمیریوں کی آباد کاری کا راستہ ہموار کیا تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے سربراہان نے بھی اس پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کو ختم کرنے کا مطلب کشمیری عوام کو ان کے علاقے میں حکومتی نمائندگی اور قوانین سازی یا ترمیم کے حق سے محروم کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی جا رہی ہے‘ مگر ایک متنازع علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور ثقافتی اور مذہبی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کھلی سازش کے خلاف رسمی تقاریر کافی نہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ علاقائی تسلط اور کسی علاقے کے باسیوں کو ان کی سر زمین سے بے دخل کرنے کا آغاز اسی غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے ‘ فلسطین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بھارت کی جانب سے یکطرفہ اور ناجائز طور پر مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ تبدیل کرنے کے ایک سال کے اندر نام نہاد ڈومیسائل رولز کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔اس اقدام سے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ناجائز تسلط کو کئی قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے‘ جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین تشویش ظاہر کر چکے ہیں‘ اس اقدام کا نتیجہ غیر کشمیری اور غیر مسلم آبادی کے ایک سیلاب میں صورت میں سامنے آئے گا۔ دنیا خاص طور پر پاکستان کو اس معاملے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement