نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:انٹربینک میں ڈالر 36 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 156 روپے 10 پیسےپرٹریڈ
  • بریکنگ :- کراچی:اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ،ڈالر 156 روپے 30 پیسےمیں فروخت
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئے بجٹ کے اہداف‘ توقعات اور امکانات

مالی سال 2021-22 کا 8487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں اور عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم کو 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر دیا گیا ہے جو جہاں اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت مالی مشکلات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو اہمیت دیتی ہے‘ وہاں ترقیاتی کاموں کے ذریعے عوام کے کچھ مسائل حل ہونے کے امکانات بھی بڑھے ہیں‘ تاہم ضرورت اس امر کو یقینی بنانے کی ہے کہ مختص کی گئی رقوم ترقیاتی کاموں پر خرچ بھی کی جائیں۔ یہ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بعض اوقات یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فنڈز موجود ہونے کے باوجود ترقیاتی کام نہیں کرائے جا سکے۔ حکومت عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے‘ اس کا ثبوت بھی لوگوں کو تبھی مل سکے گا جب ان کے مسائل حل ہوں گے اور ان کے لیے کچھ آسانیاں پیدا ہوں گی۔ موجودہ حکومت کے سابق دونوں بجٹ اگرچہ خاصی تنگی کے بجٹ تھے کہ ملک اقتصادی بحران کا شکار تھا؛ تاہم اس بجٹ کے ساتھ حکومت معاشی اعتبار سے کافی پُر اعتماد دکھائی دیتی ہے؛ چنانچہ اس اعتماد کی جھلک بجٹ کے اشاریوں میں بھی کسی حد تک موجود ہے۔

مثال کے طور پر گزشتہ بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کسی اضافے کی تجویز نہیں رکھی تھی‘ جس پر اسے عوام کی جانب سے اچھی خاصی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا مگر اس بار نہ صرف ان مدات میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے بلکہ کم سے کم اجرت بھی 20 ہزار روپے کر دی گئی ہی۔ یہ الگ بات کہ سرکاری ملازمین کی تو اس اضافے کے سبب بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے کسی قدر اشک شوئی ہو جائے گی‘ لیکن چار پانچ افراد کے ایک گھرانے کے لیے آج کے دور میں 20 ہزار روپے میں گزارا کرنا ممکن نہ ہو گا۔ حکومت کے لیے یہ ایک توجہ طلب معاملہ ہے۔

علاوہ ازیں چھوٹی گاڑیوں اور موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی سے ان کی فروخت میں اضافے کا امکان ہے جس سے مقامی آٹو اور موبائل فون مینوفیکچرنگ و اسمبلنگ کی صنعتوں کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ اس بجٹ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومت اس معاشی حقیقت کو سمجھ گئی ہے کہ الٹے سیدھے ٹیکسوں کا بے کراں بوجھ ڈال کر صنعتوں اور مارکیٹ کے شعبے کا گلا گھونٹنے سے بہتر ہے کہ ٹیکسوں کی شرح کو ریشنلائز کیا جائے۔ اس سے اشیا کی قیمتوں میں کمی آنے سے ان کی فروخت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ کچھ چیزوں پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے ان اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہو گی اور قیمتوں کی زیادتی سے ان کی فروخت پر جو منفی اثرات گزشتہ چند برسوں سے پڑ رہے تھے امید کی جا سکتی ہے کہ اب اس میں فرق سامنے آئے گا۔

زیادہ یونٹس فروخت ہوں گے تو صنعت کو فائدہ ہو گا اور ٹیکس بھی زیادہ جمع ہو گا۔ توانائی کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے‘ سستی توانائی سے کھپت کا رجحان بڑھتا ہے اور اس کے مثبت اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہوتے ہیں‘ خصوصی طور پر برآمدات کے شعبے کو اس سے خاصا ریلیف ملتا ہے کہ پیداواری لاگت کم ہونے سے بہتر مصنوعات کی تیاری ممکن ہوتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں ترقی یافتہ ممالک کی عمدہ اور نفیس اشیا کا مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ دوسرے اہم شعبہ جات کے لیے بجٹ میں تجاویز کچھ اس طرح سے ہیں: زراعت کے لیے 12 ارب روپے‘ پاور ڈسٹری بیوشن کے لیے 118 ارب روپے‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے منصوبوں کے لیے 14 ارب روپے‘ کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے 1.1 ارب ڈالر‘ کراچی کے منصوبوں کے لیے ساڑھے سولہ ارب روپے‘ گلگت بلتستان کے لیے 40 ارب‘ خیبر پختونخوا کے لیے 54 ارب جبکہ بلوچستان کے جنوبی علاقوں کی ترقی کے لیے 601 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کیلئے 66 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور پانی کے منصوبوں کے کیلئے 91 ارب روپے۔ اخراجات کے اعتبار سے اس بجٹ کو ملا جلا قرار دیا جا سکتا ہے؛ اگرچہ حکومت نے بعض شعبوں کے لیے اخراجات کی گنجائش کو کافی حد تک بڑھایا ہے جوکہ ضروری تھا‘ مثال کے طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے منصوبے؛ تاہم حقیقی ترقی کے ذمہ دار کئی شعبوں کیلئے کم بجٹ باعث تشویش بھی ہے‘ مثال کے طور پر زراعت کیلئے صرف 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو فی الحقیقت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اگلے مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو کو قریب پانچ فیصد تک لے جانے میں جن شعبوں پر انحصارکیا جائے گا ان میں زراعت بنیادی شعبہ ہے۔ اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبائی دائرہ کار میں شامل ہے؛ تاہم مرکزی حکومت کی سرپرستی آج بھی ملک میں زرعی ترقی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے‘ اس لیے وفاقی بجٹ میں زراعت کے لیے صرف 12 ارب روپے کا مطلب ہے کہ زرعی شعبے میں تحقیق‘ ترقی اور نئے منصوبوں پر عمل کی امید کم ہی رکھنی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کیا گیا ہے جو رواں مالی سال میں 3.9 فیصد تک تھا۔ موجودہ حالات میں کیا یہ ہدف پورا کیا جا سکے گا؟ ایف بی آر کے ریونیو کا ٹارگٹ بھی 17.4 فیصد بڑھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھی پورا ہو سکے گا؟ مہنگائی کا ہدف 8.2 رکھا گیا ہے۔ مالی سال 2017ء سے اب تک سوائے ایک مالی سال (2020ء) کے یہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح کا بلند ترین ہدف ہے۔ بظاہر اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت آنے والے مالی سال کے دوران عوام کو مہنگائی کی اسی سطح پر برقرار رکھنا چاہتی ہے‘ دوسرے لفظوں میں مہنگائی میں کمی اس مالی سال کے دوران حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ خوراک اور پانی کی دستیابی‘ توانائی کا تحفظ‘ روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری‘ سی پیک منصوبے پر عملدرآمد میں پیش رفت‘ پائیدار ترقی کے اہداف‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات‘ سپیشل اکنامک زونز کی تعمیر اور ان کو آپریشنل بنانا‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے علوم میں پیش رفت اور علاقوں کے درمیان موجود فرق کو ختم کرنا آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی ترقیاتی ترجیحات ہیں۔ یہ بڑی شاندار منصوبہ بندی ہے‘ لیکن بات پھر وہی کہ حکومت کی نیک نیتی عوام پر اسی وقت آشکار ہو گی جب ترقیاتی منصوبوں کے مندرجہ بالا روڈ میپ پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔ وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے حسبِ سابق اور حسبِ معمول شور شرابہ شروع کر دیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے‘ جس سے اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔ یہ ظاہر ہے اچھی روایت نہیں؛ چنانچہ ترک کی جانی چاہیے۔ اپوزیشن کو اگر پیش کردہ بجٹ پر کوئی اعتراض ہے تو اسے اس کا اظہار اسی فورم پہ بجٹ پر بحث کے دوران کرنا چاہیے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement