نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شیخ رشیدکی صدارت میں محرم الحرام کےدوران امن وامان سےمتعلق اجلاس
  • بریکنگ :- محرم الحرام کےدوران امن وامان کوہرصورت یقینی بنایاجائے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- وفاقی حکومت امن وامان کےحوالےسےتمام سہولتیں فراہم کریگی،وزیرداخلہ
  • بریکنگ :- انتظامیہ کی مدد کیلئےسول آرمڈفورسزکوتعینات کیاجائےگا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- حساس علاقوں کی سکیورٹی کیلئےخصوصی اقدامات کیےجائیں گے،شیخ رشید
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چائلڈ لیبر

بچوں سے مزدوری اور دوسرے محنت طلب کام کرانے پر پابندی ہے‘ لیکن ملک کے کسی بھی حصے میں اس پابندی کی دھجیاں اڑتی عام دیکھی سکتی ہیں۔ چائے کے ڈھابوں سے لے کر ورکشاپوں اور پنکچر والی دکانوں تک میں کام کرنے والے بچوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر کی صورتحال کیا ہے۔ چائلڈ لیبر بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور ان کے تعلیمی فروغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

افسوس کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود اس سماجی برائی سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکا ہے۔ ہر سال 12 جون کو بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ہر بچے کو ذہنی و جسمانی نشوونما اور تعلیم و صحت کی یکساں سہولتیں میسر آئیں گی‘ اس کے باوجود کوئی بہتری نہیں آ سکی ہے اور آج بھی پاکستان میں لاکھوں بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ کمزور معیشت چائلڈ لیبر کے بنیادی محرکات میں سے ایک ہے۔ مالی تنگی کے شکار والدین روزی روٹی کی غرض سے بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں۔ اسی باعث اب تک کوئی بھی کاوش اس ضمن میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ایک خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے ہمیں بچوں سے مزدوری لینے کے رجحان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ملک سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ریاست بچوں کے حقوق کی محافظ بن کر سامنے آئے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement