نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 3262 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 10 لاکھ 11 ہزار 708 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 59 ہزار 899 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 39 اموات،این سی اوسی
Kashmir Election 2021
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجٹ اور اخراجات کی حقیقت

 حکومت بجٹ کی خوبیاں بیان کرنے میں مصروف ہے اور ناقدین یہ بتانے میں پیش پیش کہ اعدادوشمار بے معنی ہیں۔ توجہ دینے والی بات مگر یہ ہے کہ جو مالی سال چند دنوں میں اختتام پذیر ہونے کو ہے اس میں حکومتی کارکردگی کیسی رہی؟ حکومت نے اس مالی سال کے دوران مختص کردہ رقوم کا کیا کیا جو گزشتہ جون میں بڑے دعووں کا موضوع تھیں، بالکل اِسی طرح جیسے آج نئی رقوم نئے دعووں کو ہوا دے رہی ہیں۔

کوئی مشاہدہ کرے تو اسے نظر آجائے گا کہ حکومت نے ان رقوم میں سے کئی خرچ ہی نہیں کیں یا بہت کم خرچ کی گئی ہیں اور کئی رقوم کسی اور مقصد کیلئے خرچ کر دی گئیں‘ نیز کئی مصارف پر بجٹ کے موقع پر بچت دکھا کر داد وصول کی جاتی ہے‘ لیکن دورانِ سال خاموشی سے اس میں اضافہ کر لیا جاتا ہے۔ آئندہ سال کیلئے پنجاب نے اپنے ترقیاتی بجٹ کا حجم موجودہ سال کی نسبت 66 فیصد بڑھایا ہے۔ ظاہر ہے اس پر واہ واہ ہو گی لیکن کوئی یہ بھی تو دیکھے کہ کیا انتظامی مشینری میں اتنا خرچ کرنے کی صلاحیت ہے؟ موجودہ مالی سال اور اس سے پہلے کے سالوں پر نظر ڈالیں تو یہ عیاں ہو جائے گا کہ رقم مختص کرنے اور رقم استعمال کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم ہر سال یہ ثابت کرتے ہیں کہ یا تو توقع کے مطابق وسائل دستیاب ہی نہیں ہوتے اور اگر ہوں بھی تو کئی وجوہ سے استعمال نہیں ہو پاتے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement