نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان کی تاریخ سے واقف ہوں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پہلےہی کہہ دیاتھا افغان مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- امریکاافغان مسئلےکاحل نکالنےمیں ناکام رہا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- طالبان افغانستان میں پیش قدمی کررہےہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اب افغانستان میں طویل خانہ جنگی ہوتی ہےتوپاکستان پردوہرےاثرات کاخدشہ ہے
  • بریکنگ :- ہمارےہاں پشتون کثیرتعداد میں ہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پشتون اس خانہ جنگی کاشکارہوسکتےہیں ،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں کوئی عسکریت پسندطالبان نہیں تھے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغانستان میں 40سال سے خانہ جنگی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اشرف غنی کےصدربننےکےبعدطالبان ان سےمذاکرات کےلیےآمادہ نہیں تھے
  • بریکنگ :- پاکستان 30لاکھ سے زائدافغانیوں کی میزبانی کررہا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نائن الیون اور نیویارک واقعےمیں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دہشت گردی کےخلاف جنگ میں70ہزارلوگوں اپنی جانیں قربان کیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو150ارب ڈالرکانقصان ہوا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
  • بریکنگ :- پاکستان محسوس کرتاہے اس جنگ سےہماراکوئی تعلق واسطہ نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اب پاکستان کاموقف بالکل واضح ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےفریقین کوقریب لانےکےلیےبہت کچھ کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اب ہماراملک کسی محاذآرائی کامتحمل نہیں ہوسکتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- میرےخیال میں افغان مسئلے کاحل سیاسی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان کسی تنازع کاحصہ نہیں بن سکتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں امن کےلیےسہولت کاری کررہا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اب آدھے سےزیادہ افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اشرف غنی کاانتخابات میں تاخیرنہیں کرنی چاہیے تھے،وزیراعظم
Kashmir Election 2021
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کورونا ویکسین کی نایابی

گزشتہ سال سے خبریں گردش میں تھیں کہ حکومت نے کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے 15 کروڑ ڈالر مختص کر دیے ہیں۔ صوبہ پنجاب نے رقم مختص کر رکھی ہے اور سندھ نے بھی‘ لیکن ابھی ویکسین کسی نے خریدی نہیں۔ یہاں ویکسی نیشن مہم کا  دارومدار بڑی حد تک چین سے ملنے والی ویکسین پر ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے ویکسین کی تقسیم کی تنظیم کوویکس کی وساطت سے بھی کچھ ویکسین ملی‘ مگر جیسے ہی بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہوا ملک میں یہ نایاب ہوگئی۔ ممکن ہے یہ مسائل مقامی طور پر ذخیرہ اور سپلائی کی حد تک ہوں لیکن ایک بات سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ حکومت صرف مفت ملنے والی ویکسین پر انحصارکیوں کر رہی ہے؟

یہ بھی سننے میں آیا کہ حکومت خریدنا تو چاہتی ہے لیکن ویکسین دستیاب نہیں۔ یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک اپنی آبادی کیلئے ویکسین کا انتظام کرتے آرہے ہیں تو ہمیں کیا دقت ہے؟ اس وقت دنیا بھر میں ویکسی نیشن کو ہی غیرملکی سفر کیلئے پاسپورٹ کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ اگر آج پاکستان آنا اور دوسرے ممالک میں جانا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن بنا ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ویکسی نیشن بہت کم ہوئی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آمدورفت کے لحاظ سے ہمارا ملک تنہا نہ رہ جائے تو ویکسی نیشن کو بہت بڑھانا ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement