نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گوجرانوالہ چیمبرآف کامرس میں انتخابی نتائج آنےپرجھگڑا
  • بریکنگ :- چیئرمین جی ڈی اےعلی اشرف کاساتھیوں کےہمراہ سابق صدرچیمبرعاصم انیس پرتشدد
  • بریکنگ :- گوجرانوالہ:سابق صدرچیمبرعاصم انیس کی قانونی کارروائی کےلیےدرخواست
  • بریکنگ :- چیئرمین جی ڈی اےعلی اشرف کےخلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے،پولیس
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

افغان امن کے لیے پاک چین اقدامات

پاکستان اور چین نے افغان دھڑوں پر مکمل جنگ بندی اور تفصیلی مذاکرات کے ذریعے جامع سیاسی تصفیے کے لیے زور دیا ہے۔بتدریج شدت اختیار کرتی افغانستان کی داخلی صورتِ حال کے تناظر میں دونوں ممالک کا یہ اقدام وقت کی ضرورت ہے۔ افغان امن عمل میں بین الافغان مذاکرات کو بنیادی جز کی حیثیت حاصل تھی جس کا مقصد غیر ملکی انخلا کے بعد افغانوں کو اپنا ملک سنبھالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا تھا‘ مگر اسے بد قسمتی ہی کہا جائے گا کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے معاملات طے پاجانے کے باوجود بین الافغان ہم آہنگی کے معاملے میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہوسکی ؛چنانچہ انخلا کے عمل کے ساتھ ہی بے یقینی اور کشیدگی کے خدشات میں اضافہ شروع ہو گیا۔ اس حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے یہ عیاں ہے کہ انخلا کا عمل مکمل ہونے تک افغانستان ایک بار پھر مکمل انتشار کی لپیٹ میں آسکتا ہے اور اس کے منفی اثرات سب سے زیادہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے اندیشے کا باعث ہیں؛ چنانچہ علاقائی سطح پر پاکستان اور چین کی ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس ممکنہ خطرے کا ازالہ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ جنگ اگرچہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہو رہی تھی مگر اس کے باوجود افغانستان کو دہشت گردی سے پاک نہیں کیا گیا اور تحریک طالبان پاکستان سمیت کئی علاقائی اور عالمی دہشت گرد گروہوں، حکومتی و غیر حکومتی عناصر اور تخریبی عناصر کو افغانستان کی سرزمین ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے مواقع حاصل رہے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہے کہ ا گرافغان سرزمین پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو یہاں سے دہشت گردی کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی اس کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں دہشت گرد گروہ افغانستان میں اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کر سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال یقینی طور پر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کا سبب ہو گی؛چنانچہ خطے کے وسیع تر اور پائیدار امن کے لیے اافغانستان کو انتشار سے بچانا ہو گا۔ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت بھی ایسی ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں زمینی رابطوں اور تجارت کے مواقع بڑھانے کے لیے بھی افغانستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں؛ تاہم یہ پیش رفت مکمل طور پر افغان دھڑوں کے رویے‘ سوچ اور تعاون پر مبنی ہے کیونکہ ہمسایہ ممالک جو کوشش بھی کرلیں‘ امن و امان کے لیے افغانوں کو خود ہی پہل کرنا ہوگی۔ افغانوں کے لیے یہ جاننا بے حد اہم ہے کہ ان کا مستقبل اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اور امن اور استحکام کے ساتھ ہے۔ دو دہائیوں کی جنگ کا خاتمہ اور غیر ملکی افواج کا انخلا یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے مگر اس کے بعد افغانوں کو نہایت فکر و تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا تاکہ کسی نئے بحران میں گر پڑنے کے بجائے وہ اپنے ملک کو استحکام دلا سکیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب افغان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور اپنے ملک کو ترقی دینے کی سوچ پیدا کریں۔اس پیش رفت کا نقطہ آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ افغان دھڑے آپسی تصفیے کی طرف بڑھیں۔ قطر میں گزشتہ ہفتے کے مذاکرات کے ساتھ اگرچہ یہ امید اجاگر ہوئی تھی مگر ان مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا باعثِ تشویش ہے؛چنانچہ علاقائی سطح پر جہاں تک ہو سکے‘ کوشش کی جانی چاہیے کہ جلد از جلد بین الافغان بات چیت کا ماحول پیدا ہو ‘ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو اور جنگ بندی اور باہمی رضا مندی کے ساتھ مستقبل کے فیصلے کیے جائیں۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک اگرچہ متعلقہ فریقین کو تصفیے کے لیے پابند کرنے کی پوزیشن میں نہیں؛ تاہم ایسا ماحول بنانے میں مدد ضرور فراہم کر سکتے ہیں جس میں بات چیت کی طرف بڑھا جا سکے۔ اس کام میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے کیونکہ اصولی طور پر امن عمل کے ساتھ ہی بین الافغان ہم آہنگی کا عمل بھی شروع ہونا چاہیے تھا‘ جو کہ ہوا بھی مگر اس میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب پاکستان اور چین کو مل کر یہ کام کرنا ہو گا کیونکہ بالآخر افغانستان کا عدم استحکام خطے کے لیے ہی اصل تشویش کا سبب ہے۔

پاکستان اور چین کے علاوہ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی اس عمل میں شریک کیا جاسکتا ہے۔اس جانب پیش رفت کو بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بہرحال واضح ہے کہ افغانستان کے معاملے میں وقت کے خلاف دوڑ جاری ہے۔کشیدگی میں روز بروز اضافہ افغان دھڑوں کے لیے باہمی مذاکرات اور تصفیے کے امکانات کے لیے مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔حالیہ دنوں امریکی افواج کی جانب سے طالبان کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال اس صورتِ حال کی خرابی پر عمل انگیز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دوران جب افغانستان انتشار کے کنارے پر کھڑا ہے ‘ اسے تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لیے افغانوں کو آگے بڑھنا ہو گا اور ہمسایہ ممالک کو ان کی مدد کرنا ہو گی۔تاہم یہ کام افغانوں کے اپنی سوچ کی تبدیلی کے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ بیس سالہ انتشار اورریاستی عدم استحکام کی طویل تاریخ افغانوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرے گی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement