نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:کنٹونمنٹ بورڈالیکشن،5 وارڈزپرالیکشن کمیشن نےفیصلہ سنادیا
  • بریکنگ :- لاہور:الیکشن کمیشن نےہارےہوئےامیدواروں کی درخواستیں مستردکردیں
  • بریکنگ :- لاہور:الیکشن کمیشن نےریٹرننگ افسران کےفیصلےکوبرقراررکھا
  • بریکنگ :- تحریک انصاف 3 اور2 لیگی امیدواروں نےدوبارہ گنتی کی درخواستیں دی تھیں
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

میڈیا کی زباں بندی کا بِل

جمہوری اور ترقی پسند معاشروں میں ذرائع ابلاغ کو ریاست کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے مگر ذرائع ابلاغ کو اپنے فرائض منصبی کماحقہٗ ادا کرنے کیلئے اظہار کی آزادی کا تحفظ درکار ہوتا ہے‘ لیکن وطنِ عزیز میں مختلف ادوار میں حکومتیں ذرائع ابلاغ کی آزادی پر قدغن لگانے کے ہتھیار حاصل کرنے کیلئے کوشاں رہی ہیں۔ حالیہ دنوں ’’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ کے نام سے ایک ایسا ہی ٹول حکومت کی ترجیح بنا ہوا ہے جو میڈیا کو زیر عتاب رکھنے کے لیے حکومت کو ایک ’’ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اختیار عطا کر سکے جس کے ذریعے حکومت اپنے تعینات کئے ہوئے لوگوں کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول میں رکھ سکے۔اس مجوزہ قانون کے تحت بننے والی ریگولیٹری اتھارٹی کو حکومت جو اختیارات تفویض کرنا چاہتی ہے‘وہ انصاف کے منافی ہیں خاص طور پر وہ شقیں جو ذرائع ابلاغ کے اداروں پر جرمانوں اور صحافیوں کو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کے حق سے محروم کرتی ہیں۔صحافتی ادارے قانون‘ قاعدے سے ماورا نہیں‘ الیکٹرانک‘ مطبوعہ اور انٹر نیٹ کے ذرائع ابلاغ کے لیے قوانین اور ریگولیٹری ادارے پہلے سے موجود ہیں‘ تو ان قوانین اور اداروں کو بے اثر کر کے حکومت ایک ہی ’’ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ کی چھتری تلے میڈیا کو لا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟

اس خواہش کی سوائے اس کے کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت میڈیا کو حاصل تھوڑی بہت آزادی پر بھی ضرب لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں تک خبر کی صداقت کی بات ہے تو کوئی بھی صحافتی ادارہ جھوٹ کو آگے بڑھانے کے عمل میں شریک نہیں ہوتا‘ مگر باوجود اس کے جہاں کہیں کوتاہی ہواور کسی کو شکایت پیدا ہو تو اس کا نوٹس لینے کا طریقہ کار بھی قانون میں موجود ہے اور دنیا بھر میں یہی طریقہ کار رائج ہے کہ صحافی جہاں اپنی معلومات کا دفاع نہیں کر پاتا‘ اس کے لیے اسے ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔مگر خبر کی صداقت کے تعین اور وضاحت کے نظام کا آزاد اور خود مختار ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگرحکومت کے ماتحت کسی ادارے کو اس معاملے میں فیصلے کا کلی اختیار دے دیا جائے تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے کا امکان نہیں کیونکہ ایسے ادارے کسی خبر میں حکومتِ وقت کے سچ ہی کو سچ ماننے پہ مجبور ہوں گے۔ ایسے نظام میں آزاد ذرائع ابلاغ کے لیے اعتماد کے ساتھ کام کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو گی اور آزادی‘ جو صحافتی سرگرمی کا بنیادی تقاضا ہے‘ ختم ہو جائے گی۔صحافتی اداروں کا فرضِ منصبی بے لاگ اور غیر جانبدارانہ حیثیت کے ساتھ سچ کو سامنے لانا ہے جبکہ ہماری حکومت جو کرنا چاہتی ہے اس کے نتیجے میں سچ کی تلاش اور ابلاغ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور حکومت کے طاقتور بازو کی دست برد سے اپنے وجود کو محفوظ رکھنے کیلئے میڈیا کے لیے یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ تنقید کے بجائے قصیدہ گوئی شروع کردے۔ مگر اس کا نقصان ذرائع ابلاغ کو ادارہ جاتی سطح پر جو ہو گا‘ سو ہو گا‘خود سماج کے لیے بھی یہ سودا معمولی خسارے کا نہیں۔ذرائع ابلاغ معاشرے کیلئے آنکھ‘ کان اور زبان کا کام کرتے ہیں مگر حکومتی ریگولیٹری عتاب کے نتیجے میں یہ آنکھ صرف وہی دیکھنے کے قابل رہ جائے گی جو حکومت دکھانا چاہتی ہے‘ یہ کان عوام کی آواز سننے کے بجائے صرف حکومتی ہدایات کو سن سکیں گے اور یہ زبان صرف حکومتی زبان بولنے کے قابل رہ جائے گی۔ کیا ایسا لاغر میڈیا ملک و قوم کیلئے کوئی مفید خدمت انجام دے سکتا ہے؟ میڈیا سماجی جذبات کے اظہار کیلئے سیفٹی والو کا کام کرتا ہے اور حکومت کو ان ذرائع سے عوامی جذبات اور احساسات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے‘ مگر ایسا میڈیا جوحکومتی اشارۂ ابرو پر ناچنے پہ مجبور ہو‘ وہ صرف یک طرفہ ابلاغ کے قابل ہو گا اور عوامی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کا فریضہ ادھورا رہ جائے گا۔

حکومت کی یہ میڈیا ہینڈلنگ سٹریٹیجی آمرانہ نظریۂ صحافت کا پر تو معلوم ہوتی ہے‘ مگر میڈیا کا گلا گھونٹنے کے نتائج سماجی‘ سیاسی اور فکری سطح پر کیا ہوتے ہیں‘ اس کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ حکومت کو اس سوچ سے فی الفور رجوع کرنا چاہیے اور جمہوری طرز ِ فکر اختیار کرتے ہوئے سماج اور ریاست کے لیے میڈیا کی ضرورت و اہمیت کا ادراک کرنا چاہیے۔ حکومت کو ان چیلنجز پر بھی نظر کرنی چاہیے جن کا سامنا ملک اور حکومت کو ہے۔ ان حالات میں ایک مضبوط اور آزاد میڈیا کے بغیر پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر اپنا مقدمہ کامیابی سے نہیں لڑ سکتا۔ حکومتی کے مجوزہ قانون اور نام نہاد ریگو لیٹری اتھارٹی کے ذریعے یہ تو ہو سکتا ہے کہ عوام کے مسائل کا آزادانہ اظہار نہ ہو مگر کیا اس سے مسائل کم ہوں گے یا بڑھیں گے؟اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایسی صورت میں صرف خلفشار پیدا ہو گا اور غیر جانبدار اور مضبوط میڈیا کے بغیر پاکستان کی عالمی ترجمانی کو بھی شدید ضعف پہنچے گا۔ جب آپ سچ لکھنے اور بولنے پہ پابندی لگاتے ہیں تو اس صورت میں افواہیں جنم لیتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے اداروں کا اعتماد سماج میں بے بنیاد اطلاعات کے خلاف ڈھال کا کام کرتا ہے اور جب آپ اس وجود کو ختم کردیں گے تو افواہوں کے طوفان کے سامنے سماج کا بے بس ہو جانا طے شدہ امر ہے۔ خوش آئند امر ہے کہ ملک کی جمہوری سیاسی جماعتیں‘ وکلااورانسانی حقوق کی تنظیمیں پی ایم ڈی اے کے کالے قانون کی مذمت کررہی ہیں‘ صحافتی کارکن اور تنظیمیں بھی جدوجہد کر رہی ہیں۔دو روز سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں کا دھرنا جاری ہے، حزبِ اختلاف کے رہنمائوں نے بھی صحافیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے،یہ کوشش مربوط انداز سے جاری رہنی چاہیے یہاں تک کہ یہ غیر مفید مسودہ قانون اپنی موت مر جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement