نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سلطان محمدخان مینگل زبردست سولجر ،مہم جو اور کوہ پیما تھے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاکستان کےاولڈوارویٹرن لیفٹیننٹ کرنل(ر)سلطان محمد خان مینگل انتقال کرگئے
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمد خان مینگل کی عمر 103سال تھی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- لیفٹیننٹ کرنل (ر)سلطان محمدخان مینگل نے مختلف مہمات میں حصہ لیا
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گنے کے نرخ اور کرشنگ سیزن

ایک خبر کے مطابق سندھ میں گنے کے نرخ پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس کے باعث کرشنگ کے آغاز میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کاشتکار تنظیمیں اس سیزن میں گنے کے نرخ 300 روپے فی من اور کرشنگ 15اکتوبر تک شروع کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ ملز مالکان گنے کے نرخ 225 روپے سے زائد مقرر کرنے اور کرشنگ یکم نومبر سے قبل شروع کرنے کو تیار نہیں۔ اس مسئلے کا جلد کوئی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کرشنگ میں تاخیر کا مطلب ہے‘ چینی کی تیاری میں تاخیر جبکہ حکومت پہلے ہی چینی درآمد کرنے پر مجبور ہے۔

گنے کے نرخ اور کرشنگ سیزن کے مسائل ہر سال سر ابھارتے ہیں اور ہر سال انہیں حل کرنے پر توانائیاں صرف کرنا پڑتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ گنے کے نرخ حکومت کو کاشتکار کے پیداواری اخراجات کو پیشِ نظر رکھ کر طے کرنے چاہئیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر کرشنگ سیزن شروع کرنے کا وقت طے ہے تو ہر سال اس معاملے میں تنازع کیوں کھڑا ہو جاتا ہے؟ اس ایشو کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ کاشت کاروں کو شوگر ملوں کے ہاتھوں استحصال سے بچانے کیلئے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو ملک میں چینی کی پیداوار پر نظر رکھنا ہو گی تاکہ یہ مقامی ضرورت کے مطابق تیار کی جا سکے اور ہمیں چینی کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ نہ کرنا پڑے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement