نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سرکاری افسران کیلئےگھروں کےکرائےکی حدمقرر،نوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- حکومت اب سرکاری افسران کوگھرکاکرایہ اضافےکےساتھ دے گی
  • بریکنگ :- گریڈ 22 کےافسرکیلئےگھرکاکرایہ 68 ہزارسے 89 ہزارروپےمقرر
  • بریکنگ :- گریڈ 21 کےافسر کیلئےکرایہ 57 ہزار کےبجائے 71 ہزارروپےہوگا
  • بریکنگ :- گریڈ 20کےافسرکوکرائےکی مدمیں 59 ہزارروپےملیں گے
  • بریکنگ :- گریڈ 19 کےافسرکوگھرکےکرائےکیلئے 46 ہزارروپےملیں گے
  • بریکنگ :- درجہ چہارم کےملازمین کو 9 ہزارروپےتک کرایہ کی مدمیں مل سکیں گے
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کا کوہِ گراں اور حکومتی دعوے

اندرونِ ملک اس وقت حکومت کو جو سب سے بڑا عوامی مسئلہ درپیش ہے‘ وہ مہنگائی اور گرانی کا کوہِ گراں ہے جو بارہا کوششوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ اپنی جگہ پر قائم ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ مشاہدے میں آ رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خورونوش جیسے گندم، آٹا، گھی، چینی کی قیمتوں کو تو جیسے پَر لگے ہوئے ہیں‘ ان میں اضافہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی نہ کسی چیز کی قیمت میں اضافے کی خبریں سامنے نہ آئیں۔ مہنگائی کس تیزی سے بڑھ رہی ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی نگرانی میں کام کرنے والے اور سبسڈائزڈ اشیا فراہم کرنے والے یوٹیلٹی سٹورز پر بھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ حکومت اگر اپنی نگرانی میں چلنے والے سٹورز پر مہنگائی کو نہیں روک پا رہی تو کھلی مارکیٹ میں حالات کیا ہوں گے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پہلے کبھی کبھار حکومتی ایوانوں سے ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کی باتیں سننے میں آ جاتی تھیں‘ اب وہاںبھی خاموشی چھا چکی ہے۔ لگتا ہے عوام کو طلب اور رسد کے بجائے مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والی دوسری قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا یہ اعلان کہ ملک میں مہنگائی حکومتی پالیسیوں کے سبب نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے باعث ہوئی ہے‘ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

یہی نہیں گزشتہ دو ماہ میں آٹے کے نرخ متعدد بار بڑھنے اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے باوجود وزیر خزانہ نے ملوں کے لیے گندم کی ریلیز پرائس 1475 روپے سے بڑھا کر 1950 روپے مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئند چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیر معمولی کمی ہو جائے گی۔ عوامی حلقے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریلیز پرائس کو 1475 سے بڑھا کر ساڑھے انیس سو روپے کرنے سے عوام کے لیے آٹے کی قیمت کم کیسے ہو جائے گی؟ اس سے تو مہنگائی کا ایک اور سیلِ رواں جاری ہو جائے گا جو متوسط اور نچلے طبقات کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ حکومت اس پر سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ قیمتوں کو ایک حد پہ برقرار رکھا جا سکے‘ مگر سبسڈی کے حوالے سے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے ڈیٹا کو پیش نظر رکھتے ہوئے رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے۔ ان کے مطابق اب آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دی جائے گی جس سے آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہو گی۔ اگر حکومت کا یہی پلان ہے تو نچلا طبقہ ممکن ہے کسی طور مہنگائی کے وار سے بچ جائے مگر گرانی کی چکی کے دونوں پاٹوں میں متوسط طبقہ ہی پسے گا، جس کی نہ قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی اس کی آمدن کے ذرائع ہی کشادہ ہوئے ہیں بلکہ مہنگائی بڑھنے سے ان میں کمی آئی ہے اور دوسری جانب‘ آٹے میں نمک کے برابر‘ جو سبسڈی میسر تھی‘ اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ پٹرول، بجلی، گیس اور دوسرے یوٹیلٹی بلوں پر حکومت سبسڈی کو پہلے ہی نچلی ترین سطح پر لا چکی ہے اور اشیائے صرف کی سرکاری نرخوں پر آسان رسائی بھی اب تک ممکن نہیں بنائی جا سکی جس کے سبب عوام کا کثیر طبقہ براہِ راست مہنگائی سے متاثر ہو رہا ہے۔ گندم کی ریلیز پرائس میں اضافے اور سبسڈی کے خاتمے سے کتنے فیصد آبادی کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا‘ یہ حقائق چونکہ حکومتی اعداد و شمار کا حصہ نہیں‘ اس لیے ان پر غور کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ حکومت بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھائو، خام تیل کی قیمت میں اضافے، کورونا کی عالمی وبا اور اس کے سبب سپلائی چین متاثر ہونے جیسے عوامل اور ان کے منفی اثرات کو مہنگائی کا سبب قرار دیتی ہے مگر دوسری جانب اس کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے، حالانکہ ڈائریکٹ فارن انویسٹمنٹس اس وقت نچلی ترین جبکہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، جس کا خمیازہ درآمدات کے مہنگا ہو جانے کے باعث آئندہ چند ہفتوں‘ مہینوں میں مزید مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی آمد کا حجم 10 سال کی بلند سطح پر پہنچنے کے باوجود روپیہ مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کی کوئی تو وجہ ہو گی؟ بیرونی ادائیگیوں، بڑھتی درآمدات نے روپے کو کمزور کیا جبکہ معاشی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے بھی ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریکارڈ درآمدات اور تاریخ ساز کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی روپے کی قدر پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر خزانہ کا یہ بیان تعجب خیز ہے کہ آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی‘ حالانکہ 2018ء میں‘ حکومت سنبھالنے کے بعد‘ جب روپے کی قدر میں یکایک کمی ہونا شروع ہوئی تھی تو کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس تاخیر سے جانے کے سبب روپے میں قدر میں کمی ہوئی اور اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کو ڈالر کی قیمت بڑھنے کا سبب بتایا جا رہا ہے۔ ان تمام حقائق کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ پالیسی پر گامزن ہے جبکہ ملک و قوم کو دیرپا ٹھوس اقدامات اور زود اثر معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی اور بیروزگاری سے ستائے عوام کو سکھ کا کوئی جھونکا ہی میسر ہو سکے۔ نہ جانے ان معاملات پر کب توجہ دی جائے گی؟

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement