نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- طے پایا ہےمنگل کی شام تک یہ لوگ وہیں رہیں گے، شیخ رشید
  • بریکنگ :- حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- جو راستے بلاک ہیں، وہ کھول دیے جائیں گے، شیخ رشید
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

توانائی کے نرخ اور مہنگائی

ایک خبر کے مطابق یکم نومبر سے گھریلو صارفین کے لیے گیس مزید مہنگی کرنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں اور مختلف سلیبز کے گیس بلوں میں ساڑھے پانچ سو روپے تا نو ہزار روپے سے زائد تک کا اضافہ ممکن ہے۔ اس سے چند روز پہلے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا تھا جبکہ حال ہی میں بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی بڑھائی گئی تھی اور نئے سلیبز بنانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ توانائی کے تینوں بڑے ذرائع کے نرخوں میں اضافہ عام آدمی کو براہ راست اور بالواسطہ‘ دونوں حوالوں سے متاثر کرتا ہے۔ براہ راست بجلی‘ گیس کے بلوں اور پٹرولیم وغیرہ کی خریداری کے تناظر میں جبکہ بالواسطہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور ان اشیا کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں جن کی تیاری یا ترسیل کے کسی بھی مرحلے میں توانائی کے ان ذرائع کا استعمال ہوتا ہے۔

یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ توانائی کی قیمت میں اضافہ مختلف اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافے کا موجب بنتا ہے اور یہ اشیا تیار کرنیوالا اس اضافے کو اپنی پروڈکٹ کی قیمت بڑھا کر آگے منتقل کر دیتا ہے اور صارف کو یہ اشیا مہنگی خریدنا پڑتی ہے۔ یوں توانائی کے نرخ بار بار بڑھنا مہنگائی کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے؛ چنانچہ حکومت کو توانائی کے ذرائع کے نرخ کم کرنے کا قصد کرنا چاہیے تاکہ روزافزوں مہنگائی کا گراف نیچے لایا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement