نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوایوان میں اکثریت ثابت کرکےاعتمادکاووٹ لیں گے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوکو 65کےایوان میں 33ارکان کی حمایت درکارہے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجواعتمادکاووٹ لینےکےبعدایوان سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ: 4بجےگورنرہاؤس میں تقریب حلف برداری ہوگی
  • بریکنگ :- گورنربلوچستان ظہورآغانومنتخب وزیراعلیٰ سےحلف لیں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج 10بجےہوگا
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زرعی پیداوار میں اضافے کی توقع

ہمارے ملک میں فی ایکڑ کم پیداوار کی ایک بڑی وجہ فرسودہ بیج ہیں ‘ جن کی پیداواری صلاحیت اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بہت کم ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق گندم‘ چاول‘ گنا اور دالوں سمیت پاکستان تقریباً سبھی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں علاقائی ممالک اور دنیا کے بڑے زرعی ممالک سے پیچھے ہے ؛چنانچہ ملکی ضرورت کو پورا کرنا ان اجناس کی درآمد کے بغیر ممکن نہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی تیاری پر توجہ دی جائے۔

بد قسمتی سے اس جانب سنجیدہ رجحان نہیں رہا اور بیجوں کی درآمد سے اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی مگر مہنگے درآمدی بیج ہر کاشت کار کی قوتِ خرید میں نہیں‘تاہم حال ہی میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے ایک اچھی خبر آئی ہے کہ ادارے نے مکئی ‘ گندم‘ چاول اور گنے کی 223 اقسام متعارف کرائی ہیں۔ان میں زیادہ تر ہائبرڈ ہیں۔ یہ پیشرفت زرعی شعبے کیلئے انقلابی اقدام ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ ان نئی اقسام کے بیج مناسب نرخوں پر اور بہ آسانی کاشتکاروں کو دستیاب ہوں۔ اس سے پہلے بھی بعض تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کئی فصلوں کے نئے بیجوں کی ڈویلپمنٹ کے دعوے سامنے آچکے ہیں مگر یہ بیج یا تو دستیاب ہی نہیں یا بہت محدود پیمانے پر ملتے ہیں جس سے ملکی پیداوار پر ان کی تیاری کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement