نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کےساتھ معاملات طےپارہےہیں،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کےمختلف مراحل ہوتے ہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- 15اکتوبرکوپہلی ملاقات ہوئی تھی،ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی ٹائم فریم طے نہیں تھا،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- ٹائم فریم سے متعلق صرف میڈیاپرخبریں چل رہی تھیں،ترجمان
  • بریکنگ :- واشنگٹن میں مذاکرات کا آج چوتھا دن ہے،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف اورحکومت نے مذاکرات کاکوئی ٹائم فریم نہیں دیا،مزمل اسلم
  • بریکنگ :- 4ماہ سےدنیابھرمیں لوڈشیڈنگ شروع ہوچکی ہے،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- ایندھن ساراباہرسےآرہا ہے،ترجمان وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں پٹرول،گیس،کوئلے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،مزمل اسلم
  • بریکنگ :- 3روزسےکہہ رہاہوں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ڈیڈلاک نہیں،مزمل اسلم
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ

 

ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں رواں مالی سال اضافے کا رجحان خود آئند ہے۔ ایک خبر کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے مہینے میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ یعنی جولائی اور اگست میں گزشتہ سال کے اسی دورانیے کی نسبت برآمدات 29 فیصد بڑھیں۔ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو بجلی اور گیس رعایتی نرخوں پر مہیا کی جاتی ہے اور اس شعبے کی کامیابی میں اس پیکیج کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صنعتوں کیلئے خصوصی پیکیجز ان شعبوں کی کارکردگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں؛

چنانچہ حکومت کو دیگر برآمدی شعبوں کے برآمدی حجم بڑھانے پر بھی توجہ دینی چاہیے جبکہ کئی ایسی اشیا جو ملک میں تیار ہو سکتی ہیں مگر عدم توجہی کی وجہ سے ان کی پیداوار کم ہے اور ضرورت پوری کرنے کیلئے درآمدات کرنا پڑتی ہیں ان کی ملکی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے کر اس درآمدی سلسلے کو بھی کم یا بالکل ختم کیا جا سکتا ہے۔ چینی کی مثال دی جاسکتی ہے کہ ایک زرعی ملک کو اپنی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے وافر چینی پیدا کرنے کے قابل ہونا چاہیے لیکن یہ کام اسی صورت ہو سکتا ہے جب حکومت ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کی طرح ان شعبوں کی طرف بھی توجہ دے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement