نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان میں نئےقائدایوان کےلیےآج کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:صبح 10سےشام 5 بجےتک کاغذات جمع ہوں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:نئےقائدایوان کاانتخاب 29اکتوبرصبح 10بجےاسمبلی اجلاس میں ہوگا
  • بریکنگ :- کوئٹہ:29 اکتوبرکی شام کوگورنرمنتخب وزیراعلیٰ سےحلف لیں گے
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بلوچستان کی محرومیاں کیسے ختم ہو سکتی ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی اولین ترجیحات میں شامل ہے‘ بلوچستان کا ہیومن ریسورس ملک کا بہترین اثاثہ ہے اور حکومت بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے رہی ہے۔ بلوچستان کی تعمیروترقی اور بلوچ شہریوں کی محرومیوں کا خاتمہ ہمارے حکمرانوں کے معمول کے دعووں میں سے ایک ہے جس کا اظہار ہر حکمران اپنے اپنے انداز میں کرتا آیا ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان یہ بات متعدد مرتبہ کر چکے ہیں مگر بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ محرومیوں کا مسئلہ محض بلوچستان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں سندھ‘ پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی لحاظ سے محرومی اور پسماندگی کی شکایات میں حق بجانب ہیں۔ پنجاب کی پسماندگی صوبائی دارالحکومت سمیت چند بڑے شہروں پر وسائل کا اکثریتی حصہ صرف کرنے اور باقی صوبے کو محروم رکھنے کی وجہ سے گزشتہ دور حکومت میں زبان زد عام رہی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقے نالیوں‘ گلیوں‘ سکولوں اور شفاخانوں جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم رہے ہیں۔

بڑھتی ہوئی زیرزمین آبی آلودگی کی وجہ سے اب ملک کی اکثر آبادی کیلئے زیر زمین پانی استعمال کے قابل نہیں رہا؛ چنانچہ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی ایک بنیادی ضرورت بن گئے ہیں مگر اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح سندھ خاص طور پر اربن سندھ میں شہریوں کی سہولت کے وسائل اور سہولیات کی ابتر صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کراچی میں گزشتہ برس بارش سے نکاسی آب کے مسائل سے جو جانی اور مالی نقصان ہوا وہ تادیر یاد رکھا جائے گا جبکہ گھریلو ضرورت کیلئے پانی کی فراہمی کی صورتحال کراچی میں جس قدر اب خراب ہے پہلے کبھی ایسی نہ تھی۔ خیبر پختونخوا کے مسائل بھی جوں کے توں ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ان میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔ صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع جنہیں امید تھی کہ صوبائی حصہ بننے کے بعد وہ ترقی اور خوشحالی کا منہ دیکھ سکیں گے ابھی تک بیم و رجا کے بیچ جھول رہے ہیں۔ اس صورتحال میں اکیلا بلوچستان ہی محرومیوں کا ہدف نہیں بلکہ دیگر صوبوں کے مسائل بھی کسی نہ کسی طرح شدید ہیں ۔ حکومتیں اگر پہلے دو برسوں میں نئے منصوبے نہ بھی شروع کر سکیں تو امید ہوتی ہے کہ تیسرے برس سے عوام کی سنی جائے گی‘ مگر موجودہ دور میں ایسا ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیا۔ حکومت کا چوتھا سال جا رہا ہے‘ بڑے متوازن جمہوری سسٹم میں بھی اس دورانیے میں حکومتیں آنے والے انتخابات کی تیاری شروع کر دیتی ہیں مگر ہمارے حکمران عوامی مسائل سے لاتعلق اور مستقبل کی تیاری سے بے فکر دکھائی دیتے ہیں۔

بہرکیف بلوچستان کی محرومیوں کا بطور خاص ذکر اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم‘ صحت‘ روزگار کے وسائل سمیت تقریباً سبھی اشاریوں میں ہمارا یہ صوبہ ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہے اور اس کے عوام کی محرومیوں کا خاتمہ ہمارے حکمرانوں کا پسندیدہ نعرہ ہے۔ بلوچستان کی ترقی اور بلوچ شہریوں کو تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرکے مین سٹریم میں شامل کرنے کی یقین دہانیاں بھی کروائی گئیں‘ اس کے باوجود اس معاملے میں جو پیشرفت ہوئی وہ ظاہروباہر ہے۔ سی پیک کو ہم بلاشبہ گیم چینجر سمجھتے اور پاکستان کے معاشی اور جیوپولیٹیکل اور جیوسٹریٹیجک مستقبل کیلئے بہت بڑا محرک سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کی اہمیت اس عالمی اور علاقائی اہمیت کے منصوبے کیلئے بنیاد کے پتھر کی سی ہے۔ سی پیک کے کامیاب مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ بلوچستان میں امن‘ خوشحالی اور ہم آہنگی کا مثالی ماحول پیدا کیا جائے۔ بلوچستان میں کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں یا مکمل ہونے کے قریب ہیں مگر بلوچ عوام کیلئے تعلیم و تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے جن منصوبوں کی ضرورت تھی ان کی اہمیت کا ادراک ہونے کے باوجود اس جانب نمایاں پیشرفت نظر نہیں آتی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن اور اس کے علاقائی اور عالمی کردار سے خوفزدہ کردار بلوچوں کی محرومی کو پاکستان کے خلاف بیانیے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ سلسلہ اسی صورت رک سکتا ہے جب محرومیوں کا ازالہ ممکن بنایا جائے اور بلوچوں کی محرومیوں کا ازالہ زبانی کلامی دعووں سے نہیں عملی اقدامات سے ہو گا۔ ضروری ہے کہ بلوچستان میں بڑے صنعتی زونز پر کام کیا جائے اور وہاں صنعت کاری کا ماحول پیدا کیا جائے۔ بلوچستان کی وسیع ساحلی پٹی اور بے بہا معدنی وسائل مخصوص صنعتوں کیلئے مفید ترین مقامات ہیں۔ سونے‘ تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کان کنی کے منصوبے بلوچستان کی محرومیوں کا بڑی حد تک ازالہ کر سکتے ہیں مگر ہماری ناکامی یہ ہے کہ ان بیش قدر معدنی وسائل سے بھی استفادہ نہیں کر سکے۔ اسی طرح گوادر میں آئل ریفائنری کا منصوبہ کچھ عرصہ پہلے زیر بحث رہا ہے‘ فی الواقع یہ لوکیشن سعودی آئل ریفائنری کیلئے بڑی پُرکشش ہو سکتی ہے مگر ہم اپنے اس اہمیت کے حامل منصوبے کو بھی صحیح مارکیٹ نہیں کر سکے۔ ایسے درجنوں منصوبوںکیلئے بلوچستان کی سرزمین بہترین مقام ثابت ہو سکتی ہے‘ مگر ان پر کام کی بجائے ہمارے حکمران محض زبانی جمع خرچ سے بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement