نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:سیالکوٹ واقعہ نےدل چیرکررکھ دیا،مریم نواز
  • بریکنگ :- کیایہ درندگی ہماری پہچان اورآنےوالی نسلوں کامستقبل ہے؟مریم نواز
  • بریکنگ :- کیاملک محفوظ تصورہوگا؟نائب صدر(ن) لیگ مریم نواز
  • بریکنگ :- ملک میں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں،مریم نواز
  • بریکنگ :- انسان سوال کرےبھی توکس سےکرے،مریم نواز
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کشمیریوں کا یومِ سیاہ اور تجدیدِ عزم

27 اکتوبر کو کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں نے یومِ سیاہ اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا اور مقبوضہ وادی کے عوام کو حقِ خود ارادیت ملنے تک ہر فورم پر پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ستمبر 2019ء میں وزیر اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اس حقیقت کو بخوبی اجاگر کیا تھاکہ جب تک کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

گزشتہ دنوں غیرملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی اس بات اعادہ کیا۔ مودی حکومت نہ تو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تاریخ کے صفحات سے کھرچ سکتی ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو جبر اور ظلم کے ہتھکنڈوں سے جھکا سکتی ہے۔ اگر گزشتہ 74 سالوں سے جبر و استبداد کا ہر ہتھکنڈا آزمانے کے بعد بھی کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نہیں دبایا جا سکا تو آئندہ بھی ایسا نہیں ہو سکے گا۔ آج یا کل‘ بھارت کو کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق‘ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دے کر ہی حل کرنا پڑے گا، اس لیے ابھی سے کیوں نہ پہل کی جائے تاکہ جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں امن کی لُو بڑھائی جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement