نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 75 ڈسکہ،دھاندلی میں ملوث افسران کیخلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ
  • بریکنگ :- دھاندلی میں ملوث افرادکیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائےگی، الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےمتعلقہ شعبوں سےفوجداری شکایات کاڈرافٹ مانگ لیا
  • بریکنگ :- محکمانہ کارروائی کیلئےانکوائری کمیٹیوں کی تشکیل کیلئےسفارشات طلب
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی 7روزمیں سفارشات منظوری کیلئےپیش کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- دھاندلی میں ملوث کوئی افسرآئندہ انتخابی ڈیوٹی پرمامورنہ ہو، الیکشن کمیشن
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایک اور پٹرولیم بحران

حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز کی کشمکش میں صارفین پریشانی اٹھا رہے ہیں۔ ڈیلرز کے مطالبات درست یا غلط‘ اس سے قطع نظر حکومت اس معاملے کو بروقت سلجھانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے پانچ نومبر کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا مگر حکومت کی جانب سے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی پر یہ ہڑتال مؤخر کر دی گئی۔ اگر حکومت ان بیس روز میں سنجیدگی سے کام کرتی اور پٹرولیم سپلائی متاثر ہونے سے پیدا ہونے والے ممکنہ بحران کا اندازہ کیا گیا ہوتا تو آج عوام کو اس مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ پٹرول پمپوں کی ہڑتال سے صرف تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی‘ عوامی سطح پر بے یقینی کی شدید لہر بھی پیدا ہوئی ہے۔ مسائل کو التوا میں ڈال کر ایسی بے یقینی پیدا کرنا ہماری حکومت کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ یہ طے کر لیا گیا ہے کہ جب تک پانی سر تک نہ پہنچ جائے‘ اصلاح کی کسی کوشش کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دینا۔ حکومت کی یہ طرزِ تدبیر چینی کے بحران میں بھی بخوبی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت کو اقدامات کا خیال اس وقت آیا جب چینی کی قیمتیں ڈیڑھ سو روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئیں۔ ان اقدامات کے بعد مارکیٹ پر مثبت اثر پڑنا یقینی تھا‘ جس سے لوگوں کو ریلیف بھی ملا مگر سوال یہ ہے کہ اسے اس قدر مؤخر کرنے میں کیا حکمت تھی؟ عوام کے لیے یہ تاخیر صرف مالی پریشانی کا سبب ہی نہیں بنی حکومتی امیج بھی اس سے شدید متاثر ہوا۔

اسی طرح گیس کے معاملے میں نظر آتا ہے کہ موسم سرما میں ملکی سطح پر کھپت میں اضافے‘ پیداوار میں کمی اور عالمی سطح پر درآمدی گیس کی قیمتیں بہت اوپر چلے جانے کا متعلقہ محکموں کو اچھی طرح اندازہ تھا مگر درآمدی گیس کے سودوں میں بے جا تاخیر اور غیرسنجیدگی سے نہ صرف یہ کہ گیس کے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں بلکہ سپلائی کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر یہ سودے چند ماہ پہلے کر لیے جاتے تو کئی ارب روپے کی بچت کی جا سکتی تھی۔ اگر درآمدی توانائی پر ہی انحصار کرنا ہے تو سٹوریج کپیسٹی کو بھی بڑھانا چاہیے تاکہ جب کہیں سستی توانائی میسر آئے‘ خرید کر ذخیرہ کر لی جائے‘ مگر ہماری حکومتوں اور اداروں کے لیے دور اندیشی اور پائیدار فائدے کا یہ کام مشکل ہے‘ وہ انتہائی ضرورت کے وقت کئی گنا اضافی قیمت پر چیز خرید لیں گے لیکن پیشگی ضرورت کا اندازہ لگانے اور انتظام کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کریں گے۔ ہمارا یہ رویہ ہمیں عالمی سطح پر ایک ایسا کنزیومر بنا کرپیش کررہا ہے جس کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں‘ نہ ہی عالمی مارکیٹ کے محرکات کی اسے سدھ بدھ ہے۔ تیل کے موجودہ بحران میں بھی حکومتی معاملہ فہمی کا فقدان واضح نظر آ رہا ہے۔ حکومت نے رواں سال کے شروع میں بھی پٹرولیم مارجن میں کچھ اضافہ کیا تھا‘ اس کے باوجود ڈیلرز کچھ عرصے سے نئے مطالبات لے کر سامنے آگئے اور پانچ نومبر سے ہڑتال کا اعلان کردیا‘ لیکن حکومتی یقین دہانی پر یہ ہڑتال ملتوی کردی گئی‘ اس کے بعد حکومت کے پاس اس کا م کیلئے کم از کم بیس روز تھے۔ اس دوران پٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ ان کے مطالبات پر غور کیا جاسکتا تھا۔ حکومت پٹرولیم ڈیلرز کے جائز مطالبات قبول کرنے کا جو اعلان اب کر رہی ہے‘ اگر اس پر بروقت کام کیا جاتا تو شاید بحران پیدا ہی نہ ہوتا۔ جہاں تک مطالبات کی نوعیت کا تعلق ہے تو حکومت کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ صرف جائز مطالبات ہی قبول کیے  جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے چھ فیصد کے برابر شرح منافع متعین کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر ان کا یہ مطالبہ جائز حد سے کافی متجاوز ہے اور اس صورت میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً آٹھ فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ ڈیلرز کو اس غیرمنطقی مطالبے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کاروبار پر پڑا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیلرز اپنا منافع دُگنا کرنے کا مطالبہ کردیں۔

اس سلسلے میں خطے کے دیگر ممالک میں جو طریقہ کار ہے اس کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ شاید کہیں بھی پٹرولیم ڈیلرز کا منافع چھ فیصد نہیں۔ ایک خبر کے مطابق بھارت میں پٹرولیم ڈیلرز کو پٹرول کی قیمت پر چار فیصد اور ڈیزل کی قیمت پر تین فیصد مارجن دیا جارہا ہے؛ چنانچہ پاکستانی ڈیلرز کے بے جا مطالبات کے ساتھ قطعاً ہمدردی نہیں کی جا سکتی‘ مگر اس معاملے میں بہتری کا امکان حکومت اور ڈیلرز کی بات چیت سے ممکن ہے۔ ڈیلرز کو پٹرول پر 3.90 اور ڈیزل پر 3.30 فیصد منافع دیا جارہا ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے تقریباً برابر ہے اور اس شرح میں دُگنا اضافے کا مطالبہ کسی لحاظ سے جائز نہیں۔ پٹرولیم ڈیلرز کو اس معاملے میں ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے جبکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں بات چیت کی پیشرفت تیز اور نتیجہ خیز ہونی چاہیے۔ وزیر توانائی حماد اظہر جائز مطالبات قبول کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ پٹرولیم ڈیلرز کو بھی چاہیے کہ پریشر گروپ کی طرح کا کردار ادا کرنے یا ناجائز مطالبات پر زور دینے کے بجائے کاروباری سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ حکومت کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ تیل کی قیمتوں اور حکومتی محصولات کی شرح میں مسلسل اضافے نے ہی پٹرولیم ڈیلرز کو اپنا منافع بڑھانے کے مطالبے پر اکسایا ہے۔ اگر پٹرولیم ڈیلرز کے ناجائز مطالبات مان لیے گئے تو کوئی اور طبقہ قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر دے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement