نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسرائیلی فورسز نے فلسطینی علاقےشیخ جراح میں فلسطینی کاگھرگرادیا، عرب میڈیا
  • بریکنگ :- بیت المقدس:اسرائیلی فورسزدروازہ توڑکرگھر میں داخل ہوئی اوراہلخانہ کوگرفتارکیا
  • بریکنگ :- بیت المقدس:قابض فورسز نے گھرکےسربراہ پرتشددکیا، عرب میڈیا
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قومی سلامتی پالیسی: سفارشات پر عمل درآمد ناگزیر

قومی سلامتی پالیسی 2022-26 کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست تھا کہ کسی ملک کی سلامتی اس کے معاشی استحکام سے منسلک ہوتی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز کے مطابق اس پالیسی میں مرتب کی گئی سفارشات معاشرے میں معاشی تفریق اور غریب و امیر کے مابین بڑھتے فرق اور معاشی عدم استحکام کے باعث درپیش خطرات، ملک کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل کے باعث درپیش مشکلات، موجودہ صورتحال، حکومتی لائحہ عمل اور مستقبل کے ممکنہ حل پر مشتمل ہیں۔ سکیورٹی کے نظریے کا جامع احاطہ قومی سلامتی پالیسی کا اہم ترین پہلو ہے۔

معاصر دنیا میں معاشی سلامتی قومی سلامتی کی جان ہے مگر معاشی سلامتی کا حصول قومی ہم آہنگی‘ برابری‘ انصاف‘ بنیادی حقوق کی یقین دہانی‘بلاامتیاز سماجی انصاف اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست کے شہریوں کے ساتھ عمرانی معاہدے پر عملدرآمد سے ممکن ہے۔ معاشی مستقبل کے تحفظ کے لیے مستحکم نمو‘ مشترکہ ترقی اور مالیاتی استحکام کا راستہ تجویز کیا گیا ہے۔ ملکی سلامتی کا تحفظ اور معاشی مفادات یقینی بنانے کیلئے کثیر جہتی حکمت عملی ناگزیر تھی اور قومی سلامتی پالیسی 2022-26ء اس ضرورت کو پورا کرتی ہے‘ مگر پالیسی دستاویز محض گائیڈلائنز اور سفارشات کا مجموعہ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ درست راستے کا تعین کردیتا ہے مگر راستے کا تعین ہی سب کچھ نہیں‘ منزل تک رسائی کیلئے سفر کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔ پالیسی گائیڈ لائنز کی حد تک ان صفحات میں جو کچھ شامل کر دیا گیا ہے‘ بہت اہم ہے مگر اس پالیسی کے حقیقی ثمرات عملی پیشرفت ہی سے ممکن ہیں؛ چنانچہ موجودہ اور آنے والی حکومت کی اس سلسلے میں اہم ذمہ داریاں ہیں۔ رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے وزیر اعظم کا یہ کہنا بڑا معنی خیز تھا کہ مجبوری کے عالم میں قرض کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے اور شرائط ماننا پڑتی ہیں مگر اس سے ملکی سلامتی متاثر ہوتی ہے؛ چنانچہ موجودہ اور آنے والی حکومت کو معاشی استحکام کے اس پہلو پر خاصا کام کرنا پڑے گا۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی اس معاملے میں محل نظر ہے۔ حکومت اپنے چوتھے برس میں داخل ہو چکی ہے مگر معاشی اشاریوں میں اضمحلال اور مہنگائی‘ دونوں دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔

معیشت کا استحکام صنعتکاری اور پیداوار بڑھانے سے مشروط ہے مگر کوئی بڑی پیشرفت نظر نہیں آ تی۔ اگرچہ دنیا کو کورونا کی وبا نے معاشی مار دی مگر ہمارے ہاں کورونا کے علاوہ بھی بہت سے فیکٹرز ہیں جن کی نشاندہی حکومت کے ماہرین کیلئے مشکل نہیں ہونی چاہیے‘ مگر حکومت ان معاملات میں اولوالعزمی اور مستقل مزاجی سے کچھ نہیں کر سکی‘ حالانکہ موجودہ حکومت کیلئے یہ کرنا ماضی کی حکومتوں سے نسبتاً آسان تھا۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی تفریق اور امیرغریب میں بڑھتے ہوئے فرق اور معاشی عدم استحکام کے باعث درپیس خطرات سے نمٹنے کی ضرورت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔

دراصل پاکستان جیسے کثیر آبادی والے متنوع معاشروں میں معاشی ناہمواری سماجی بے چینی کا ایک بنیادی محرک ہے۔ یہاں کے سماج میں چند دہائی پیچھے یہ ناہمواری اگر تھی بھی تو اس کے منفی اثرات زیادہ نہ تھے مگر گزشتہ کچھ برسوں میں جوں جوں ہم کنزیومر سوسائٹی کی حیثیت سے راسخ ہوتے گئے‘ سماجی مقابلہ بازی اور وسائل آمدنی کا فرق سماجی عدم تحفظ کا بنیادی سبب بن چکا ہے۔ پُرامن‘ محفوظ‘  ہم آہنگ سماج کیلئے سماجی ناہمواری کے مسائل سے نمٹنا بھی قومی سلامتی کا لازمی تقاضا ہے۔ چونکہ یہ اسباب معیشت سے جڑے ہیں؛ چنانچہ آخری حل معیشت ہی کو مستحکم کرنا ہے۔ ہماری حکومتوں کیلئے آنے والے کئی سال موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور آبی قلت کے خطرات سے بچاؤ کے اقدامات بھی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement