نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نوازشریف نےپورے لندن کےریسٹورنٹس کادورہ کیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف واپس نہیں آرہے،لایاجارہاہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سبز پاسپورٹ کا مرتبہ

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں 114 میں سے پاکستانی پاسپورٹ 108ویں نمبر پر آیا ہے۔ اس درجہ بندی میں صومالیہ اور یمن کے پاسپورٹ پاکستان سے بہتر درجے پر ہیں جبکہ پاکستان کے بعد آنے والے تین ممالک شام‘ عراق اور افغانستان ہیں۔ مذکورہ تینوں ممالک جنگ زدہ ہیں اور صرف پاسپورٹ انڈیکس میں نہیں دیگر اشاریوں میں بھی عالمی صفوں کے آخر میں آتے ہیں‘ مگر بائیس کروڑ آبادی‘ اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شماریات کے مطابق جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کے 226 ممالک یا ریاستوں میں 26ویں نمبر پہ آنے والے پاکستان کیلئے پاسپورٹوں کی درجہ بندی میں اتنا نچلا مرتبہ حیرت کا باعث ہے۔ پاکستان کے بعد آنے والے تینوں ممالک جی ڈی پی کے اعتبار سے بالترتیب دنیا میں 98ویں‘ 49ویں اور 100ویں نمبر پر آتے ہیں‘ جبکہ رینکنگ میں پاکستان سے پہلے آنے والے تین ممالک یمن‘ صومالیہ اور نیپال جی ڈی پی کے لحاظ سے بالترتیب 106ویں‘ 153ویں اور 87ویں نمبر پر ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ وطن عزیز ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں نچلے ترین مقام پر ایک طویل مدت سے براجمان ہے۔ 2006‘ 2010‘ 2019 میں بھی پاکستان کے پاسپورٹ کی رینکنگ کم و بیش یہی تھی۔ یاد رہے کہ انڈیکس میں کسی ملک کے پاسپورٹ کی قدر کا اندازہ اس پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کسی ملک میں داخلے سے لگایا جاتا ہے۔ تازہ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر صرف 31 ممالک میں ویزا فری انٹری ہے جبکہ شام‘ عراق اور افغانستان کے پاسپورٹس پر بالترتیب 29‘ 28 اور 26 ممالک میں۔ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے جو نعرے لگاتی ہیں ان میں ایک سبز پاسپورٹ کے وقار کو بلند کرنے کا نعرہ ہوتا ہے‘ مگر عملی صورتحال قوم کے سامنے ہے اور اس میں بہتری کی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی۔

اس صورتحال کا سبب ملک کے داخلی اور معاشی حالات کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ دہشتگردی کے خلاف ہم نے ایک بڑی جنگ جیتی ہے‘ لیکن تشویشناک واقعات اب بھی رونما ہو رہے ہیں۔ معیشت کی حالت کے بارے میں حکمرانوں کی جانب سے تو بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز کے حصول کی خاطر ہمیں اس کی متعدد کڑی شرائط تسلیم کرنا پڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب معاملات یہ ہیں کہ حکمرانوں کے تمام تر دعووں کے باوجود کرپشن پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ عالمی برادری ایسے ملک کے ساتھ روابط بڑھانے کی کتنی خواہش مند ہو سکتی ہے؟ یہ انڈیکس حکومت کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اقوام عالم میں کہاں کھڑے ہیں۔ سنجیدگی کے ساتھ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی خصوصیات اور عوامل ہیں جن کی بنا پر جاپان اور سنگا پور اس انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہیں۔ خواب تو ہمارا بھی یہی تھا‘ لیکن سوال یہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر کیلئے ہم کیا اقدامات کررہے ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement