اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خوراک کا بحران، قومی مسئلہ!

اشیائے خورونوش کی مہنگائی کو اگر اس وقت قومی مسئلہ قرار دیا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ آٹا جو ہمارے ہاں خوراک کا بنیادی جز ہے‘ اس کے دام روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عوام کو رعایتی نرخوں پر آٹا فراہم کرنے کے انتظامات کہنے کو موجود ہیں مگر عملاً ان کی افادیت کہیں نظر نہیں آ رہی‘ یوںبازار میں آٹے کے نرخ سرکاری مقرر ہ نرخوں سے دوگنا ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں آٹے کا حکومتی مقررہ نرخ 65 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں اس وقت ایک کلو آٹا 160 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت فلور ملوں کو سبسڈی پر گندم فراہم کر رہی ہے تو فلور ملوں سے آٹا کیوں نہیںمل رہا؟ اوراگر فلور ملیں آٹا دے رہی ہیں تو وہ کہاں جا رہا ہے؟ یہ سوالات بے یقینی کی اس صورتحال میں کہیں کھو گئے ہیں؛ البتہ گندم کے کوٹے اور آٹے کی سپلائی میں بدعنوانی کے شواہد پر مبنی خبریں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر آ رہی ہیں۔ حالات اچانک یہاں تک نہیں پہنچے۔ مگر پچھلے سال بھر سے سیاسی ترجیحات میں عوامی مفاد کسی درجے میں نظر نہیں آتا ۔ اس عرصے میں سیاسی جوڑ توڑ سیاستدانوں کی ترجیح رہی ہے اور اسی ادھیڑ بن کے نتائج عوام کو خوراک بے پناہ مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ملکی معیشت روزانہ کی بنیاد پر تحلیل ہو رہی ہے اوربنیادی ضروریات عوامی پہنچ سے نکل چکی ہیں مگر سیاسی رہنماؤں کیلئے ان مسائل کی اہمیت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے مواد سے بڑھ کر نہیں۔آج آٹے کا جو بحران شدت اختیار کر چکا ہے اس کی جڑیں گزشتہ برس گندم کی کم پیداوار میں ملیں گی۔ گزشتہ برس دو کروڑ 89 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا مگر ہدف سے قریب بیس لاکھ ٹن کم گندم پیدا ہوئی‘ یہ کمی درآمدی گندم سے پوری کی جانی تھی مگر یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم کی عالمی مارکیٹ متاثر ہوئی اور 2021ء کے مقابلے میں گزشتہ برس عالمی سطح پر گندم کی اوسط قیمت 15.6 فیصد زیادہ رہی جبکہ اس دوران ہمارے ملک کے مالی حالات بھی غیر مستحکم رہے ؛چنانچہ ملکی ضرورت کی گندم کی خریداری کا عمل متاثر ہوا۔اس کمی کے باوجود گندم اور آٹے کی قیمت میں سو فیصد سے زائد اضافہ باعثِ حیرت ہے۔ سال کے ان دنوں میں مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں عموماً اضافہ ہو جاتا ہے مگر یہ اضافہ اس قدر نہیں ہوتا کہ گندم کا بھاؤ سرکاری قیمتِ خریدسے دوگناہو جائے ‘ مگر اس وقت مارکیٹ کی یہی حالت ہے اور گندم پانچ ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گزشتہ سیزن میں سرکاری امدادی قیمت بائیس سو روپے فی من تھی۔قیمتوں میں اضافہ طلب اور رسد کے فرق سے ہوتا ہے مگر گندم کی مارکیٹ میں اتنا غیر معمولی فرق کیسے پیدا ہو‘ا حکومت کو اس کی تہہ تک پہنچنا چاہیے۔بہرحال آٹے کا بحران ہمارے زرعی معیشت کے دعووں کی قلعی کھولتا ہے۔ زراعت حکمرانوں کی ترجیحات میں ہمیشہ بہت پست درجے میں رہی ہے اور اس کا نتیجہ خوراک کے بحران اور مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہمارا کاشتکار گندم کی کاشت کے دنوں میں کھاد سے محروم ہوتا ہے توپیداوار پراس کا اثر پڑنا یقینی ہے۔ پاکستان بائیس کروڑ سے زائد آبادی کا ملک ہے جس کی خوراک کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے‘ بصورتِ دیگر سال میں کئی بار سر اٹھاتے خوراک کے بحران سماجی بے چینی کا سبب بنے رہیں گے اور یہ صورتحال عدم استحکام کیلئے فانے کا پتلا سرا بنی رہے گی۔ اس وقت خوراک اور توانائی کی مہنگائی عوامی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ دونوں شعبے انتظامی صلاحیت اور شفافیت کے متقاضی ہیں۔ خوراک کے نرخوں کے تعین میں اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے‘ جس طرح دنیا بھر کی حکومتیں کرتی ہیں‘ تو بے یقینی کی یہ صورت بڑی حد تک سلجھ سکتی ہے جبکہ توانائی کے معاملے میں بھی ضیاع اور چوری روکنے اور وصولی کے نظام کو بہتر بنا کر مسائل میں کمی کی جا سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement