اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاحت کی صورتحال

وطنِ عزیز کو قدرت نے پہاڑی سلسلوں‘ وسیع صحراؤں اور سر سبز و شاداب وادیوںسے نواز رکھا ہے۔ یہاں کے ٹو‘ نانگا پربت‘ گاشر بروم اور براڈ پیک جیسی دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیاں ہیں جنہیں سر کرنے کیلئے ہر سال ہزاروں غیرملکی مہم جُو پاکستان کا رُخ کرتے ہیں جو اپنے ساتھ بھاری زرِ مبادلہ بھی لاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے ملک میں بڑھتی سیاسی بے یقینی‘ عدم استحکام کی صورتحال‘ دہشتگردی اور ویزوں کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے رواں موسم سرما کے دوران ایک بھی غیرملکی مہم جُو ٹیم نے یہاں کا رُخ نہیں کیا ‘حالانکہ گزشتہ سال 1600 کوہ پیما پاکستان آئے تھے۔ ملک میں سیاحت کا بہت پوٹینشل موجود ہے اور سیاحت کے فروغ سے حکومت ہر سال کروڑوں ڈالر کما سکتی ہے ‘ مگر اس کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک سیاحت سے بھاری زرمبادلہ کماتے ہیں‘اب تو سعودی عرب جیسا تیل سے مالا مال ملک بھی سیاحت کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے۔ ہمارے ملک میں سیاحت کا پوٹینشل موجود ہونے کے باوجود اس شعبے سے کما حقہٗ فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں سیاحت کو فروغ دے اور سیاسی استحکام بھی پیدا کرے تاکہ عالمی سیاح اس جنت نظیر وادی کا رُخ کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement