اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کپاس کی پیداوار ؟

رواں سال ملک میں کپاس کی پیداوار چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار 55لاکھ گانٹھ تک رہے گی۔ کپاس کی پیداوار میں یہ کمی اتفاقیہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط پالیسی غفلت‘ کمزور حکمت عملی اور زرعی شعبے کو ترجیحات میں مسلسل پیچھے رکھنے کا نتیجہ ہے۔ ٹیکسٹائل ملک کا کلیدی برآمدی شعبہ ہے‘ اس کے باوجود اس کے خام مال یعنی کپاس کی پیداوار میں اس قدر شدید کمی نہ صرف حیران کن ہے بلکہ معاشی خود انحصاری کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی میں سب سے اہم عنصر زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے جس نے کاشتکار کیلئے کپاس کی کاشت کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔

کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور آبپاشی کے بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں کپاس کی آمدنی میں کمی نے کسان کو کپاس کے بجائے دیگر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومت کی زرعی پالیسیوں میں تسلسل اور حقیقت پسندی کا فقدان بھی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی مداخل کی لاگت میں کمی‘ معیاری بیجوں کی دستیابی‘ جدید زرعی تحقیق اور کسان کو مالی تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ کپاس کے شعبے کی بحالی اب محض ایک زرعی ضرورت نہیں بلکہ قومی اقتصادی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں