اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

عید سے قبل مہنگائی کا زور

وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 26اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 14.47 فیصد تک جا پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آٹا‘دالیں‘ اور کوکنگ آئل سمیت کئی بنیادی اشیائے خور و نوش مہنگی ہوئیں۔ یہ اشیا روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں اسلئے انکی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ ہر عید اور تہوار کے موقع پر عوام کو ناجائز منافع خوری کا عذاب بھی جھیلنا پڑتا ہے۔ بیوپاری‘ ذخیرہ اندوز اور منافع خور عناصر عوامی ضرورت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پرائس کنٹرولنگ کا حکومتی میکانزم تقریباً ناکام ہو چکا ہے۔ بازاروں میں ہر دکاندار اپنی مرضی کا نرخ وصول کر رہا ہے اور صارف بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ پرائس کنٹرولنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی سکت بڑھانے کیلئے تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں