پائیدار امن کی بنیاد
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ اس دوران ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز رہی اور ایران امریکہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہیں۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے بھی سفارتی پیش رفت کا اشارہ دیا ہے‘ جبکہ نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ روز ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے یہ خبر دی کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا کی نظریں بجا طور پر ایران اور امریکہ کے مابین امن کوششوں پر مرکوز ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل‘ گیس‘ کھاد اور دیگر اہم مصنوعات کی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ‘ عالمی منڈیوں میں بے یقینی‘ سرمایہ کاری میں کمی اور تجارتی راستوں کے متاثر ہونے جیسے خطرات دنیا کے سامنے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کی ذمہ دارانہ‘ پُرعزم اور متحرک سفارتکاری اور قیام امن کی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران اس تناظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات ہی نہیں خطے کے امن اور استحکام کیلئے بھی خلوصِ نیت کے ساتھ متحرک کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کے اس عمل نے علاقائی سطح پر پاکستان کی اہمیت‘ ذمہ داریوں کے احساس اور قائدانہ کردار کو مؤثر طور پر ثابت کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان علاقائی اعتماد سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ کردار پاکستان کی علاقائی لیڈر شپ کا بھی تعین کرتا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے متوازن اور غیرجانبدار مؤقف اختیار کیا ؛ چنانچہ امریکہ اور ایران ہی نہیں عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اس سفارتی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ایران اور امریکہ تحمل‘ تدبر اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن معاہدے تک پہنچیں کیونکہ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر دیرپا امن مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ اگر اس تنازعے کے فریق دانشمندی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا خطہ اس بحران سے بچ سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی اس کے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران سے وابستہ امیدیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب دنیا ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیوں سے یہ اندیشہ شدت اختیار کر چکا تھا کہ اپریل کے وسط سے جاری امن کوششیں کسی نئی محاذ آرائی کی نذر نہ ہو جائیں۔
خدانخواستہ ایسا ہوتا تو مستقبل قریب میں پائیدار امن کے امکان کو شدید دھچکا پہنچتا ۔ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان کی قیادت کے مؤثر اور دانشمندانہ کردار نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان امن‘ استحکام اور سفارتکاری کے راستے پر یقین رکھتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔