نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
  • بریکنگ :- اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زیادتی کرنےوالا ہی قصوروارہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتاثرہ فردکبھی بھی اس واقعےکاذمہ دارنہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتعلق میرےبیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرلیاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انٹرویومیں پاکستانی معاشرےسےمتعلق بات ہورہی تھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکارہورہی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پردےکاحکم صرف خواتین کےلیےنہیں مردوں کےلیےبھی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام میں پردےکامقصد معاشرےمیں بگاڑکوروکنا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام خواتین کوعزت واحترام دیتاہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،وزیراعظم
Kashmir Election 2021

تازہ اسپیشل فیچر

پاکستان کرکٹ کے بہترین فیلڈرز

کرکٹ

لاہور: (سپیشل فیچر) کرکٹ میچ میں فتح کیلئے فیلڈنگ بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کیچز نہ چھوڑے جائیں اور گراؤنڈ فیلڈنگ بھی شاندار ہو تو جیت کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

1992ء میں جب جنوبی افریقہ پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی پابندی ختم کر دی گئی تو اس ٹیم نے کرکٹ ورلڈکپ کھیلا۔ اس میں ان کے کھلاڑیوں نے جس معیار کی فیلڈنگ کی اسے دیکھ کر پوری دنیا کے شائقین کرکٹ ششدر رہ گئے۔ ویسے تو جنوبی افریقہ کے تمام کھلاڑیوں کی فیلڈنگ قابل دید تھی لیکن جونٹی روڈز کی فیلڈنگ اتنی شاندار تھی کہ جس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کے خلاف ایک روزہ میچ میں انہوں نے انضمام الحق کو جس طرح رن آئوٹ کیا اسے آج تک مثال بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ نے بھی عمدہ فیلڈرز پیدا کئے۔ہم اس مضمون میں ان فیلڈرز کے بارے میں اپنے قارئین کو بتا رہے ہیں جنہیں ان کی شاندار فیلڈنگ کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

آغا سعادت علی

آغا صاحب نے صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا لیکن ڈومیسٹک کرکٹ بہت کھیلی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے باکمال فیلڈر تھے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں انہوں نے اچھا خاصا سکور کیا۔ 21جون 1929ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے آغا سعادت علی نے ریٹائرمنٹ کے بعد 1978 ء میں ایک روزہ میچز میں امپائرنگ کے فرائض بھی سرانجام دئیے۔ 1948 ء میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کا دورہ کیا اور آغا سعادت علی نے نان فسٹ کلاس میچز میں حصہ لیا۔ 1949 ء میں وہ دولت مشترکہ کی ٹیم کے خلاف بھی کھیلے۔ 1955 ء میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا جس میں انہوںنے 8رنز بنائے۔ انہوں نے 17فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں ٹیسٹ ٹیم میں عمدہ فیلڈنگ کی وجہ سے ہی شامل کیا گیا تھا۔ بلے باز کی حیثیت سے وہ اتنے کامیاب نہیں ہوئے لیکن وہ پاکستان کے بہترین فیلڈرز میں سے ایک تھے اور آج بھی انہیں ایک بہترین فیلڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بی سی سی پی کے سیکرٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ وہ لاہور کی بلیئرڈ اور سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔
آغا سعادت علی کے دونوں بیٹے فسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے۔ 25اکتوبر 1995ء کو آغا سعادت علی کا 66برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہو گیا۔

ویلس متیھائس

50ء کی دہائی میں پاکستان کے اس غیر مسلم کرکٹر نے خوبصورت بلے بازی اور عمدہ فیلڈنگ کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے 1955 ء سے لے کر 1962ء تک 21ٹیسٹ میچز میں حصہ لیا۔ وہ پاکستان کی طرف سے کھیلنے والے پہلے غیر مسلم کرکٹر تھے۔ وہ دائیں ہاتھ سے کھیلتے تھے اور مڈل آرڈر کے دلکش بلے باز تھے۔ 7فروری 1935 ء کو کراچی میں جنم لینے والے ویلس میتھائس نے 7نومبر 1955ء کو نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔انہوں نے 21ٹیسٹ میچوں میں 783 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنے کیرئیرکے دوران3 نصف سنچریاں بنائیں اور یہ سب ویسٹ انڈیز کیخلاف تھیں۔ 1958-59ء میں ڈھاکہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انہوں نے دونوں اننگز میں 64 اور 45رنز بنائے اور پاکستان یہ میچ جیت گیا۔ انہوں نے 146 فسٹ کلاس میچز میں 7520 رنز بنائے۔ ویلس میتھائس نے فسٹ کلاس کرکٹ میں 16سنچریاں اور 41نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ 1962 ء کے انگلینڈ کے دورے سے واپسی پر انہوں نے اگلے 4سالوں میں 13میچز میں 113.8 رنز کی اوسط سے 1357رنز بنائے۔ 4برس بعد انہوں نے نیشنل بینک کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے پہلے کپتان مقرر کر دئیے گئے۔ وہ 1976-77 ء تک اس بینک سے وابستہ رہے بعد میں وہ کوچنگ کے فرائض سرانجام دینے لگے۔

ویلس میتھائس سلپ کے بڑے شاندار فیلڈر تھے۔ ان کے بارے میں اس زمانے کے وکٹ کیپر امتیاز احمد کا کہنا تھا کہ ویلس میتھائس جیسے سلپ کے فیلڈر کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میتھائس نے سلپ کی پوزیشن کا ماحول ہی بدل دیا، اس سے پہلے کھلاڑی سلپ میں فیلڈنگ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ میتھائس کے ریفلیکسز غیر معمولی تھے جن کی وجہ سے مشکل کیچز بھی آسان بن جاتے تھے۔ پہلے کھلاڑی سلپ میں اس لیے فیلڈنگ کرنا پسند کرتے تھے تاکہ انہیں دوڑنا نہ پڑے۔‘‘ یکم جولائی 1994 ء کو ویلس میتھائس کا 59 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال ہو گیا۔

وسیم راجہ

وسیم راجہ کو ’’تھری ان ون‘‘ کہنا چاہئے۔ اگرچہ ان کے ساتھ کئی دفعہ ناانصافیاں ہوئیں اور انہیں ٹیم سے باہر رکھاگیا لیکن جب بھی وہ ٹیم میں واپس آئے انہوں نے بیٹنگ‘ بائولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ وہ بڑی جارحانہ بلے بازی کرتے تھے اور ان کی عمدہ سپن بائولنگ سے بھی پاکستان ٹیم کو بڑا فائدہ ہوتا تھا۔ بلے بازی میں انہوں نے ویسٹ انڈیز اور بھارت کے خلاف ہمیشہ دلکش کھیل پیش کیا۔ بائولنگ میں انہوں نے ہمیشہ ٹیم کی مدد کی۔خاص طور پر جب کسی مخالف بلے باز کو آئوٹ کرنا ضروری ہو جاتا تھا اور دوسرے بائولرز اسے آئوٹ کرنے میں ناکام ہو جاتے تھے۔ وسیم راجہ ایک شاندار فیلڈر بھی تھے۔ انہوں نے 1973ء سے 1985ء تک 57ٹیسٹ میچز اور 54ایک روزہ میچز میں حصہ لیا۔

3جولائی 1952 ء کو ملتان میں پیدا ہونے والے وسیم حسن راجہ نے2 فروری 1973ء کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے 57ٹیسٹ میچز میں 36.2 رنز کی ا وسط سے 2821 رنز بنائے جبکہ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 2203رنز کی اوسط سے 782رنز جوڑے۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے وسیم راجہ نے 1976-77 ء کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں بڑی دھواں دھار بلے بازی کی تھی اور پوری سیریز میں 500سے زیادہ رنز بنائے تھے۔ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 51 جبکہ ایک روزہ میچز میں 21وکٹیں اپنے نام کیں۔ وسیم راجہ نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ بھی نیوزی لینڈ کیخلاف کھیلا ۔ انہوں نے پہلا ٹیسٹ ولنگٹن میں کھیلا تھا جبکہ ان کا آخری ٹیسٹ بھی نیوزی لینڈ کیخلاف تھا جو انہوں نے آک لینڈ میں کھیلا۔ انہوں نے 4 ٹیسٹ سنچریاں اور 18نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ ٹیسٹ میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 125 رنزتھا جو انہوں نے 1983 ء میں بھارت کیخلاف جالندھر میں بنائے تھے۔ انہوں نے کئی یادگارکیچز پکڑے۔ اس کے علاوہ ان کی گرائونڈ فیلڈنگ بھی بہت اچھی ہوتی تھی اور انہیں ان کی شاندار فیلڈنگ کی وجہ سے بھی بہت داد ملتی تھی۔

وسیم راجہ نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا اور پھر وہ انگلینڈ میں پڑھاتے رہے۔ وہ پاکستان کی انڈر 19ٹیم کے کوچ بھی رہے۔ 15ٹیسٹ اور 34 ایک روزہ میچز میں آئی سی سی کے میچ ریفری بھی رہے۔ ان کے بھائی رمیض راجہ بھی پاکستان کی طرف سے کھیلتے رہے اور وہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ اگست 2006ء میں وسیم راجہ دل کا دورہ پڑنے سے انگلینڈ میں انتقال کر گئے۔

اعجاز احمد

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے اعجاز احمد ایک عمدہ بلے باز تھے۔ وہ کبھی کبھی میڈیم فاسٹ بائولنگ بھی کراتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اس وقت پاکستان ٹیم کے بہترین فیلڈر تھے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ بھی رہے۔ وسیم اکرم فیلڈنگ کے حوالے سے ان پر بڑا اعتماد کرتے تھے۔ اعجاز احمد نے 1986 ء سے لے کر 2001ء تک 60ٹیسٹ میچز اور 250ایک روزہ میچز کھیلے۔ 20ستمبر 1968 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اعجاز احمد نے 3فروری 1987 ء کو بھارت کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے ٹیسٹ میچزمیں 37.67 رنز کی اوسط سے 3315 رنز بنائے جن میں 12سنچریاں اور ایک ڈبل سنچری بھی شامل ہے۔ ایک روزہ میچز میں اعجاز احمد نے 32.33رنز کی اوسط سے 6564 رنز بنائے جن میں 10سنچریاں اور 37نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 45 اور ایک روزہ مقابلوں میں 90کیچز پکڑے۔

اعجاز احمد نے کئی شاندار کیچز پکڑے۔ 1999ء کے ورلڈکپ میچز میں پاکستان نے جو لیگ میچ آسٹریلیا کیخلاف کھیلا تھا اس میں وسیم اکرم کی گیند پر اعجاز احمد نے مائیکل بیون کا جو کیچ لیا تھا وہ سب کو یاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے بہترین فیلڈرز میں سے ایک ہیں اوریہی وجہ ہے کہ انہیں پاکستان ٹیم کا فیلڈنگ کوچ بھی مقرر کیا گیاتھا۔

شاہد آفریدی

شاہد آفریدی بھی ’’تھری اِن ون‘‘ تھے۔ بلے بازی اور بائولنگ کے علاوہ ان کی فیلڈنگ بھی بے مثال تھی۔ ایک زمانے میں ان کا شمار دنیا کے بہترین فیلڈرز میں ہوتا تھا۔ ان کے شاندار کیچز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر وہ کیچز جو انہوں نے بائونڈری پر پکڑے‘ یادگار ہیں۔ کیچز کے علاوہ ان کی گرائونڈ فیلڈنگ بھی قابل تحسین تھی۔ ایسے کرکٹر بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

شاہد آفریدی یکم مارچ 1980 ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے پہلا ایک روزہ میچ 2اکتوبر 1996 ء کو سری لنکا کے خلاف کھیلا اور پہلے ہی میچ میں تیز ترین سنچری بنا ڈالی۔ ان کا ریکارڈ کئی سال تک قائم رہا۔ پہلا ٹیسٹ انہوں نے 22اکتوبر 1998 ء کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ان کا ٹی 20کا پہلا میچ 28اگست 2006 ء کو انگلینڈ کیخلاف تھا۔ وہ بڑے جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے اور اس خوبی کی بنا پر پوری دنیا میں مشہور تھے۔ انہیں’’ لالہ‘‘ اور’’ بوم بوم‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے 27 ٹیسٹ‘ 398ایک روزہ اور 99ٹی20 میچز کھیلے۔ ٹیسٹ کرکٹ انہوں نے خود ہی چھوڑ دی حالانکہ انہوں نے 5 ٹیسٹ اور8 نصف سنچریاں بنائیں اور ان کی اوسط بھی 36.71 رنز تھی۔ا یک روزہ میچز میں انہوں نے 6 سنچریاں اور 39نصف سنچریاں بنائیں جبکہ T20میچز میں بھی انہوں نے 4نصف سنچریاں بنائیں۔ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 48‘ ایک روزہ میچز میں 395 اور ٹی 20میچز میں 98وکٹیں اپنے نام کیں۔

شاہد آفریدی نے ٹیسٹ میچز میں 10‘ایک روزہ مقابلوں میں 127 اور ٹی 20 مقابلوں میں 30کیچز پکڑے۔ سلپ کے علاوہ وہ ہر فیلڈنگ پوزیشن پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ انہوں نے کئی یادگار کیچز پکڑے۔ 2011ء میں موہالی میں سچن ٹنڈولکر کا کیچ انہوں نے ہی پکڑا تھا حالانکہ اس سے پہلے سچن کے 5 کیچز چھوڑ دئیے گئے تھے۔ یہ تو ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھی انکے قابل دید کیچز کی تعداد بہت ہے۔ پاکستان کے بہترین فیلڈرز کا جب بھی تذکرہ کیا جائے گا تو شاہد آفریدی کا نام اس میں ضرور شامل ہوگا۔

عمران نذیر

یہ بھی بہت جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے اور ان کی فیلڈنگ کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔ 16دسمبر 1981 ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہونیوالے عمران نذیر اوپننگ بلے باز تھے۔ انہوں نے 1999ء سے 2012 ء تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ اس دفعہ وہ کئی بار ٹیم سے باہر بھی رہے۔ 8مارچ 1999ء کو انہوں نے سری لنکا کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جبکہ ان کا پہلا ایک روزہ میچ میں سری لنکا کے خلاف تھا جو انہوں نے 27مارچ 1999ء کو کھیلا۔ انہوں نے8 ٹیسٹ میچز میں 32.84رنز کی ا وسط سے 427 رنز بنائے جبکہ 79ایک روزہ میچز میں ان کے رنز کی تعداد 2895تھی۔ انہوں نے 2ٹیسٹ سنچریاں اورایک نصف سنچری بنائی۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 131رنز تھا۔

عمران نذیر نے جب بین الاقوامی کرکٹ شروع کی توسب کا خیال تھاکہ ایک شاندار مستقبل ان کا منتظر ہے لیکن پھر ان کے کھیل میں تسلسل نہ رہا۔ لیکن انہوں نے اپنی باکمال فیلڈنگ سے بھی شائقین کرکٹ سے داد وصول کی۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 4 اور ایک روزہ میچز میں 26کیچز پکڑے۔ اس طرح ٹی 20میچز میں انہوں نے 11کیچز پکڑے۔ 2007 ء کے کرکٹ ورلڈکپ میں انہوں نے زمبابوے کیخلاف 160 رنز بنائے۔ وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے لیکن ایک شاندار فیلڈر کی حیثیت سے انہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

فخر زمان

جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے فخر زمان بھی خاصے مشہور ہیں لیکن ان کا دوسرا وصف ان کی اعلیٰ فیلڈنگ ہے۔ 10اپریل 1990ء کو پیدا ہونے والے فخر زمان نے 3 ٹیسٹ میچز میں 32رنز کی ا وسط سے 192رنز بنائے جبکہ 50ایک روزہ میچز میں انہوں نے 49.7 رنز کی اوسط سے 2262 رنز بنائے ہیں۔ ان میں ان کی6 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ 46ٹی 20میچز میں انہوں نے 22.5 رنز کی اوسط سے 948رنز بنائے ان میں5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ فخر زمان نے ایک روزہ میچز میں ایک ڈبل سنچری بھی بنائی۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے اس کھلاڑی کو اپنی فیلڈنگ کی وجہ سے بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 3ایک روزہ میچز میں 21 اور ٹی 20مقابلوں میں 24کیچزپکڑے ہیں۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ بھی عمدہ بلے بازی کے علاوہ خوبصورت فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

شاداب خان

شاداب خان کو بھی ’’تھری اِن ون‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ بلے بازی اور سپن بائولنگ کے علاوہ وہ ایک پھرتیلے فیلڈر بھی ہیں۔ وہ 4اکتوبر 1998 ء کو میانوالی میں پیدا ہوئے۔ 30اپریل 2017ء کو انہوں نے ویسٹ انڈیز کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جبکہ ان کا پہلا ایک روزہ میچ بھی ویسٹ انڈیز کیخلاف تھا اور پھر ان کا پہلا ٹی 20بھی ویسٹ انڈیز کیخلاف تھا۔ یہ سب میچز 2017 ء میں کھیلے گئے۔ انہوں نے 6 ٹیسٹ میچز میں 33.3رنز کی ا وسط سے 300رنز بنائے جبکہ 45 ایک روزہ میچز میں انہوں نے 25.5رنز کی اوسط سے 383 رنز اپنے نام کئے۔ انہوں نے 46 ٹی 20میچز میں حصہ لیا اور 14.1رنز کی اوسط سے 183رنز بنائے۔ شاداب خان نے ٹیسٹ میچز میں 3‘ ایک روزہ مقابلوں میں 9 اور T20میچز میں 15کیچز پکڑے ہیں۔ وہ پوائنٹ کے بہت اچھے فیلڈر ہیں۔انہیں پوائنٹ کا کنگ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ ان کے پاس کرکٹ کھیلنے کیلئے بہت وقت ہے۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرتے رہے تو بلے بازی‘ بائولنگ اور فیلڈنگ میں بہت نام پیدا کریں گے۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر